ลงชื่อเข้าใช้
ลงชื่อเข้าใช้
ลงชื่อเข้าใช้
เลือกภาษา

ตัฟซีร: Al-Isra 17:25

17:25
ربكم اعلم بما في نفوسكم ان تكونوا صالحين فانه كان للاوابين غفورا ٢٥
رَّبُّكُمْ أَعْلَمُ بِمَا فِى نُفُوسِكُمْ ۚ إِن تَكُونُوا۟ صَـٰلِحِينَ فَإِنَّهُۥ كَانَ لِلْأَوَّٰبِينَ غَفُورًۭا ٢٥
رَّبُّكُمۡ
أَعۡلَمُ
بِمَا
فِي
نُفُوسِكُمۡۚ
إِن
تَكُونُواْ
صَٰلِحِينَ
فَإِنَّهُۥ
كَانَ
لِلۡأَوَّٰبِينَ
غَفُورٗا
٢٥
[25] พระเจ้าของพวกเจ้าทรงรู้ดียิ่งถึงสิ่งที่อยู่ในจิตใจของพวกเจ้า หากพวกเจ้าเป็นคนดี ดังนั้นพระองค์เป็นผู้ทรงอภัยแก่บรรดาผู้กลับเนื้อกลับตัวอย่างแน่นอน
ตัฟซีร
ชั้นต่างๆ
บทเรียน
ภาพสะท้อน
คำตอบ
กิรอต
หะดีษ
گناہ اور استغفار ٭٭

اس سے مراد وہ لوگ ہیں، جن سے جلدی میں اپنے ماں باپ کے ساتھ کوئی ایسی بات ہو جاتی ہے جسے وہ اپنے نزدیک عیب کی اور گناہ کی بات نہیں سمجھتے ہیں، چونکہ ان کی نیت بخیر ہوتی ہے اس لیے اللہ ان پر رحمت کرتا ہے، جو ماں باپ کا فرمانبردار نمازی ہو اس کی خطائیں اللہ کے ہاں معاف ہیں۔

کہتے ہیں کہ اوابین وہ لوگ ہیں جو مغرب و عشاء کے درمیان نوافل پڑھیں۔ بعض کہتے ہیں جو صبح کی نماز ادا کرتے رہیں، جو ہر گناہ کے بعد توبہ کر لیا کریں۔ جو جلدی سے بھلائی کی طرف لوٹ آیا کریں۔ تنہائی میں اپنے گناہوں کو یاد کر کے خلوص دل سے استغفار کر لیا کریں۔ عبید کہتے ہیں جو برابر ہر مجلس سے اٹھتے ہوئے یہ دعا پڑھ لیا کریں۔ [ دعا ] ‏ «‏اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا أَصَبْتُ فِي مَجْلِسِي هَذَا» ‏

ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں اولیٰ قول یہ ہے کہ جو گناہ سے توبہ کر لیا کریں۔ معصیت سے اطاعت کی طرف آجایا کریں۔ اللہ کی ناپسندیدگی کے کاموں کو ترک کرکے اس کی رضا مندی اور پسندیدگی کے کام کرنے لگیں۔ یہی قول بہت ٹھیک ہے کیونکہ لفظ اواب مشتق ہے اوب سے اور اس کے معنی رجوع کرنے کے ہیں جیسے عرب کہتے ہیں ”اب فلان“ اور جیسے قرآن میں ہے آیت «إِنَّ إِلَيْنَا إِيَابَهُمْ» ‏ [88-الغاشية:25] ‏ ” ان کا لوٹنا ہماری ہی طرف ہے۔ “

صحیح حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر سے لوٹتے تو فرماتے (‏دعا)‏ «‏آيِبُونَ تَائِبُونَ عَابِدُونَ لِرَبِّنَا حَامِدُونَ» لوٹنے والے توبہ کرنے والے عبادتیں کرنے والے اپنے رب کی ہی تعریفیں کرنے والے۔ [صحیح بخاری:1797] ‏

صفحہ نمبر4678