Ingia
Ingia
Ingia
Chagua Lugha

Bayan ul Quran Tafsiri: Al-Ahqaf Ayah 25

46:25
تدمر كل شيء بامر ربها فاصبحوا لا يرى الا مساكنهم كذالك نجزي القوم المجرمين ٢٥
تُدَمِّرُ كُلَّ شَىْءٍۭ بِأَمْرِ رَبِّهَا فَأَصْبَحُوا۟ لَا يُرَىٰٓ إِلَّا مَسَـٰكِنُهُمْ ۚ كَذَٰلِكَ نَجْزِى ٱلْقَوْمَ ٱلْمُجْرِمِينَ ٢٥
تُدَمِّرُﲌ
كُلَّﲍ
شَيۡءِۭﲎ
بِأَمۡرِﲏ
رَبِّهَاﲐ
فَأَصۡبَحُواْﲑ
لَاﲒ
يُرَىٰٓﲓ
إِلَّاﲔ
مَسَٰكِنُهُمۡۚﲕﲖ
كَذَٰلِكَﲗ
نَجۡزِيﲘ
ٱلۡقَوۡمَﲙ
ٱلۡمُجۡرِمِينَﲚ
٢٥ﲛ
Tafsir
Tabaka
Mafunzo
Tafakari
Majibu
Qiraat
Hadith

آیت 25 { تُدَمِّرُ کُلَّ شَیْئٍم بِاَمْرِ رَبِّہَا } ”تباہ و برباد کرتا ہے ہر شے کو اپنے رب کے حکم سے“ دمر کے مادہ میں کسی درخت کو جڑ سے اکھاڑ کر پھینک دینے کا مفہوم پایا جاتا ہے۔ چونکہ وہ بڑے قد آور لوگ تھے اس لیے ان کے لیے یہ لفظ استعمال ہوا ہے اور اسی لیے سورة الحاقہ کی مذکورہ بالا آیت میں انہیں زمین پر پڑے ہوئے کھجور کے تنوں سے تشبیہہ دی گئی ہے۔ { فَاَصْبَحُوْا لَا یُرٰٓی اِلَّا مَسٰکِنُہُمْ } ”پھر وہ ایسے ہوگئے کہ کچھ نظر نہیں آ رہا تھا سوائے ان کے مسکنوں کے۔“ ان کے عالی شان گھر اور ان کی بڑی بڑی حویلیاں تو نظر آرہی تھی مگر ان کے مکینوں کی کچھ خبر نہیں تھی۔ { کَذٰلِکَ نَجْزِی الْقَوْمَ الْمُجْرِمِیْنَ } ”اسی طرح ہم بدلہ دیا کرتے ہیں مجرموں کی قوم کو۔“