Ingia
Ingia
Ingia
Chagua Lugha

Tafsir: Al-Hajj 22:57

22:57
والذين كفروا وكذبوا باياتنا فاولايك لهم عذاب مهين ٥٧
وَٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ وَكَذَّبُوا۟ بِـَٔايَـٰتِنَا فَأُو۟لَـٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌۭ مُّهِينٌۭ ٥٧
وَٱلَّذِينَ
كَفَرُواْ
وَكَذَّبُواْ
بِـَٔايَٰتِنَا
فَأُوْلَٰٓئِكَ
لَهُمۡ
عَذَابٞ
مُّهِينٞ
٥٧
Tafsir
Tabaka
Mafunzo
Tafakari
Majibu
Qiraat
Hadith
Unasoma tafsir ya kundi la aya 22:55 hadi 22:57 kwa Lugha ya Kiingereza
کافروں کے دل سے شک و شبہ نہیں جائے گا ٭٭

یعنی کافروں کو جو شک شبہ اللہ کی اس وحی یعنی قرآن میں ہے وہ ان کے دلوں سے نہیں جائے گا۔ شیطان یہ غلط گمان قیامت تک ان کے دلوں سے نہ نکلنے دے گا۔ قیامت اور اس کے عذاب ان کے پاس ناگہاں آ جائیں گے۔ اس وقت یہ محض بے شعور ہوں گے جو مہلت انہیں مل رہی ہے اس سے یہ مغرور ہو گئے۔

جس قوم کے پاس اللہ کے عذاب آئے اسی حالت میں آئے کہ وہ ان سے نڈر بلکہ بےپروا ہو گئے تھے اللہ کے عذابوں سے غافل وہی ہوتے ہیں جو پورے فاسق اور اعلانیہ مجرم ہوں۔ یا انہیں بے خبر دن عذاب پہنچے جو دن ان کے لیے منحوس ثابت ہو گا۔ بعض کا قول ہے کہ اس سے مراد یوم بدر ہے اور بعض نے کہا ہے مراد اس سے قیامت کا دن ہے یہی قول صحیح ہے گو بدر کا دن بھی ان کے لیے عذاب اللہ کا دن تھا۔ اس دن صرف اللہ کی بادشاہت ہوگی۔ جیسے اور آیت میں ہے «مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ» [1-الفاتحہ:4] ‏ ” اللہ تعالیٰ قیامت کے دن کا مالک ہے “۔ اور آیت میں ہے «الْمُلْكُ يَوْمَئِذٍ الْحَقُّ لِلرَّحْمَـٰنِ وَكَانَ يَوْمًا عَلَى الْكَافِرِينَ عَسِيرًا» [25-الفرقان:26] ‏ ” اس دن رحمن کا ہی ملک ہو گا اور وہ دن کافروں پر نہایت ہی گراں گزرے گا “۔ فیصلے خود اللہ کرے گا۔ جن کے دلوں میں اللہ پر ایمان رسول کی صداقت اور ایمان کے مطابق جن کے اعمال تھے جن کے دل اور عمل میں موافقت تھی۔ جن کی زبانیں دل کے مانند تھیں وہ جنت کی نعمتوں میں مالا مال ہوں گے جو نعمتیں نہ فنا ہوں نہ گھٹیں نہ بگڑیں نہ کم ہوں۔ جن کے دلوں میں حقانیت سے کفر تھا، جو حق کو جھٹلاتے تھے، نبیوں کے خلاف کرتے تھے، اتباع حق سے تکبر کرتے تھے ان کے تکبر کے بدلے انہیں ذلیل کرنے والے عذاب ہوں گے۔

جیسے فرمان ہے آیت «اِنَّ الَّذِيْنَ يَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِيْ سَيَدْخُلُوْنَ جَهَنَّمَ دٰخِرِيْنَ» [40-غافر:60] ‏ ” جو لوگ میری عبادتوں سے سرکشی کرتے ہیں وہ ذلیل ہو کر جہنم میں داخل ہوں گے “۔

صفحہ نمبر5648