Identifikohu
Identifikohu
Identifikohu
Zgjidh Gjuhën

Tefsir: At-Tur 52:29

52:29
فذكر فما انت بنعمت ربك بكاهن ولا مجنون ٢٩
فَذَكِّرْ فَمَآ أَنتَ بِنِعْمَتِ رَبِّكَ بِكَاهِنٍۢ وَلَا مَجْنُونٍ ٢٩
فَذَكِّرۡ
فَمَآ
أَنتَ
بِنِعۡمَتِ
رَبِّكَ
بِكَاهِنٖ
وَلَا
مَجۡنُونٍ
٢٩
Tefsiret
Shtresat
Mësimet
Reflektime
Përgjigjet
Kiraat
Hadith
Po lexoni një tefsir për grupin e vargjeve 52:29 deri në 52:34

جب آدمی ایک دعوت کے مقابلہ میں اپنے آپ کو بے دلیل پائے، اس کے باوجود وہ اس کو ماننا نہ چاہے تو وہ یہ کرتا ہے کہ داعی کی ذات میں عیب لگانا شروع کردیتا ہے۔ وہ کلام کے بجائے متکلم کو اپنا نشانہ بناتا ہے۔ یہی وہ نفسیات تھی جس کے تحت پیغمبر کے مخاطبین نے آپ کو شاعر اور مجنون کہنا شروع کیا۔ وہ آپ کی دعوت کو دلیل سے رد نہیں کرسکتے تھے۔ اس لیے وہ آپ کے بارے میں ایسی باتیں کہنے لگے جن سے آپ کی شخصیت مشتبہ ہوجائے۔

مگر پیغمبر خدا سے لے کر بولتا ہے۔ اور جو انسان خدا سے لے کر بولے اس کا کلام اتنا ممتاز طور پر دوسروں کے کلام سے مختلف ہوتا ہے کہ اس کے مثل کلام پیش کرنا کسی کے لیے ممکن نہیں ہوتا۔ اور یہ واقعہ اس بات کا سب سے بڑا ثبوت ہوتا ہے کہ اس کا کلام خدائی کلام ہے، وہ عام معنوں میں محض انسانی کلام نہیں۔