Entrar
Entrar
Entrar
Selecione o idioma

Tazkir ul Quran Tafsir: Yusuf Aia 83

12:83
قال بل سولت لكم انفسكم امرا فصبر جميل عسى الله ان ياتيني بهم جميعا انه هو العليم الحكيم ٨٣
قَالَ بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ أَنفُسُكُمْ أَمْرًۭا ۖ فَصَبْرٌۭ جَمِيلٌ ۖ عَسَى ٱللَّهُ أَن يَأْتِيَنِى بِهِمْ جَمِيعًا ۚ إِنَّهُۥ هُوَ ٱلْعَلِيمُ ٱلْحَكِيمُ ٨٣
قَالَﲗ
بَلۡﲘ
سَوَّلَتۡﲙ
لَكُمۡﲚ
أَنفُسُكُمۡﲛ
أَمۡرٗاۖﲜﲝ
فَصَبۡرٞﲞ
جَمِيلٌۖﲟﲠ
عَسَىﲡ
ٱللَّهُﲢ
أَنﲣ
يَأۡتِيَنِيﲤ
بِهِمۡﲥ
جَمِيعًاۚﲦﲧ
إِنَّهُۥﲨ
هُوَﲩ
ٱلۡعَلِيمُﲪ
ٱلۡحَكِيمُﲫ
٨٣ﲬ
(Quando falaram ao seu pai), este lhes disse: Qual! Vós mesmos deliberastes cometer semelhante crime! Porém, resignar-me-ei a ser paciente, talvez Deus me devolva ambos, porque Ele é o Sapiente, o Prudentíssimo.
Tafsirs
Camadas
Lições
Reflexões
Respostas
Qiraat
Hadith
Você está lendo um tafsir para o grupo de versos 12:83 a 12:87

’’تم نے بات بنالی ہے‘‘ کہہ کر حضرت یعقوب نے برادران یوسف کے دل کا کھوٹ واضح کیا۔ وہ باپ کے یہاں سے گئے تو مکمل حفاظت کا وعدہ کرکے اس کو ساتھ لے گئے۔ اور جب بن یامین کے اسباب میں سے پیالہ برآمد ہوا تو اس کی طرف سے اتنی مدافعت بھی نہ کرسکے کہ یہ کہتے کہ محض پیالہ برآمد ہونے سے وہ چور کیسے ثابت ہوگیا۔ شاید کسی اور نے رکھ دیا ہو یا کسی غلطی سے وہ اس کے اسباب کے ساتھ بندھ گیا ہو۔ اس کے برعکس، انھوںنے یہ کیا کہ یہ کہہ کر اس کے جرم کو مصریوں کی نظر میں اور پختہ کردیا کہ اس کا بھائی بھی اس سے پہلے چوری کرچکا ہے۔

حضرت یعقوب اگرچہ دو عزیز بیٹوں کو کھونے کی وجہ سے بے حد غم زدہ تھے۔ مگر اسی کے ساتھ وہ خدا سے اس کی رحمت کی امید بھی لگائے ہوئے تھے۔ ان کا اب بھی یہ خیال تھا کہ یوسف کا ابتدائی زمانہ کا خواب ایک خدائی بشارت تھا اور وہ ضرور پورا ہوگا۔ اسی لیے انھوں نے بیٹوں سے کہا کہ جاؤیوسف کو تلاش کرو اور بن یامین کی رہائی کی بھي کوشش کرو۔