Entrar
Entrar
Entrar
Selecione o idioma

Tafsir: Yusuf 12:35

12:35
ثم بدا لهم من بعد ما راوا الايات ليسجننه حتى حين ٣٥
ثُمَّ بَدَا لَهُم مِّنۢ بَعْدِ مَا رَأَوُا۟ ٱلْـَٔايَـٰتِ لَيَسْجُنُنَّهُۥ حَتَّىٰ حِينٍۢ ٣٥
ثُمَّ
بَدَا
لَهُم
مِّنۢ
بَعۡدِ
مَا
رَأَوُاْ
ٱلۡأٓيَٰتِ
لَيَسۡجُنُنَّهُۥ
حَتَّىٰ
حِينٖ
٣٥
Mas apesar das provas, houveram por bem encarcerá-lo temporariamente.
Tafsirs
Camadas
Lições
Reflexões
Respostas
Qiraat
Hadith
Você está lendo um tafsir para o grupo de versos 12:35 a 12:36

مصر کے اعلیٰ طبقہ کی خواتین جب حضرت یوسف کو اپنی طرف راغب نہ کرسکیں تو اس کے بعد انھوں نے آپ کے لیے جو مقام پسند کیا وہ قید خانہ تھا۔ چوں کہ اس وقت آپ کی حیثیت ایک غلام کی تھی اس لیے قدیم رواج کے مطابق آپ کو قید خانہ بھیجنے کے لیے کسی عدالتی کارروائی کی ضرورت نہ تھی۔ آپ کا آقا خود اپنے فیصلہ سے آپ کو قید میں ڈالنے کااختیار رکھتا تھا۔

مگر قید خانہ آپ کے لیے نیا عظیم تر زینہ بن گیا۔ اب تک ایسا تھا کہ مصر کے ایک یا چند افسروں کے گھرانے آپ سے متعارف ہوئے تھے۔ اب اس کا امکان پیداہوگیا کہ آپ کی شخصیت کا چرچا خود بادشاہ مصر تک پہنچے۔

اس کی صورت یہ ہوئی کہ آپ جس قید خانہ میں رکھے گئے اس میں دو اور نوجوان قید ہو کر آئے۔ یہ دونوں شاہی محل سے تعلق رکھتے تھے۔ ان دونوں نے قید خانہ میں خواب دیکھے اور آپ سے اس کی تعبیر پوچھی۔ آپ نے انھیں خواب کی تعبیر بتادی۔ یہ تعبیر بالکل صحیح ثابت ہوئی۔ اس کے بعد ان میں سے ایک قید خانہ سے چھوٹ کر دوبارہ شاہی محل میں پہنچا تو اس نے ایک موقع پر بادشاہ سے بتایا کہ قید خانہ میں ایک ایسا نیک انسان ہے جو خواب کی بالکل صحیح تعبیر بتاتا ہے — اس طرح آپ کا قید ہونا آپ کے لیے شاہی محل تک رسائی کا ابتدائی زینہ بن گیا۔