Entrar
Entrar
Entrar
Selecione o idioma

Tazkir ul Quran Tafsir: Taha Aia 76

20:76
جنات عدن تجري من تحتها الانهار خالدين فيها وذالك جزاء من تزكى ٧٦
جَنَّـٰتُ عَدْنٍۢ تَجْرِى مِن تَحْتِهَا ٱلْأَنْهَـٰرُ خَـٰلِدِينَ فِيهَا ۚ وَذَٰلِكَ جَزَآءُ مَن تَزَكَّىٰ ٧٦
جَنَّٰتُﳠ
عَدۡنٖﳡ
تَجۡرِيﳢ
مِنﳣ
تَحۡتِهَاﳤ
ٱلۡأَنۡهَٰرُﳥ
خَٰلِدِينَﳦ
فِيهَاۚﳧﳨ
وَذَٰلِكَﳩ
جَزَآءُﳪ
مَنﳫ
تَزَكَّىٰﳬ
٧٦ﳭ
Jardins do Éden, abaixo dos quais correm rios, onde morarão eternamente. Tal será a retribuição de quem se purifica.
Tafsirs
Camadas
Lições
Reflexões
Respostas
Qiraat
Hadith
Você está lendo um tafsir para o grupo de versos 20:74 a 20:76

مجرم بننا کیا ہے۔ مجرم بننا یہ ہے کہ آدمی کے سامنے خدا کی نشانی آئے مگر وہ اس سے نصیحت حاصل نہ کرے۔ اس کے سامنے دلائل کی زبان میں حق کھولا جائے مگر وہ اس کو نظر انداز کردے۔ وہ ظاہری قوتوں اور مادی مصلحتوں سے باہر نکل کر حقیقت کا اعتراف نہ کرسکے۔

ایسے لوگوں کے لیے آخرت میں سخت ترین سزا ہے۔ دنیا کی کوئی مصیبت، خواہ وہ کتنی ہی بڑی ہو، بہر حال وہ محدود ہے۔ اور موت کے ساتھ ایک نہ ایک دن ختم ہوجاتی ہے۔ مگر آخرت وہ جگہ ہے جہاں مصیبتوں کا طوفان ہر طرف سے آدمی کو گھیرے ہوئے ہوگا۔ مگر آدمی کے لیے وہاں سے بھاگنا ممکن نہ ہوگا۔ اور نہ وہاں موت آئے گی جو ناقابلِ بیان مصیبتوں کا سلسلہ منقطع کردے۔

جنت اس کے لیے ہے جو اپنے آپ کو پاک کرے۔ پاک کرنا یہ ہے کہ آدمی غفلت کی زندگی کو ترک کرے اور شعور کی زندگی کواپنائے۔ وہ اپنے آپ کو ان چیزوں سے بچائے جو حق سے روکنے والی ہیں۔ مصلحت کی رکاوٹ سامنے آئے تو اس کو نظر انداز کردے۔ نفس کی خواہش ابھرے تو اس کو کچل دے۔ ظلم اور گھمنڈ کی نفسیات جاگے تو اس کو اپنے اندر ہی اندر دفن کردے۔

یہی لوگ سچے ایمان والے ہیں۔ دنیا میں ان کا ایمان عملِ صالح کے باغ کی صورت میں اگا تھا، آخرت میں وہ ابدی جنتوں کے روپ میں سر سبز شاداب ہو کر انھیں واپس ملے گا۔