Entrar
Entrar
Entrar
Selecione o idioma
20:74
انه من يات ربه مجرما فان له جهنم لا يموت فيها ولا يحيى ٧٤
إِنَّهُۥ مَن يَأْتِ رَبَّهُۥ مُجْرِمًۭا فَإِنَّ لَهُۥ جَهَنَّمَ لَا يَمُوتُ فِيهَا وَلَا يَحْيَىٰ ٧٤
إِنَّهُۥ
مَن
يَأۡتِ
رَبَّهُۥ
مُجۡرِمٗا
فَإِنَّ
لَهُۥ
جَهَنَّمَ
لَا
يَمُوتُ
فِيهَا
وَلَا
يَحۡيَىٰ
٧٤
E quem comparecer como pecador, ante seu Senhor, merecerá o inferno, onde não poderá morrer nem viver.
Tafsirs
Camadas
Lições
Reflexões
Respostas
Qiraat
Hadith
Você está lendo um tafsir para o grupo de versos 20:73 a 20:74

آیت 73 اِنَّآ اٰمَنَّا بِرَبِّنَا لِیَغْفِرَلَنَا خَطٰیٰنَا وَمَآ اَکْرَہْتَنَا عَلَیْہِ مِنَ السِّحْرِ ط ”تیرے مجبور کرنے پر ہم نے اپنے جادو کے بل پر اللہ کے پیغمبر کا مقابلہ کرنے کی جو جسارت کی ہے ہم اپنے رب سے اس جرم کی معافی مانگتے ہیں۔ ان جادوگروں سے تو یہی کہا گیا ہوگا کہ تمہیں ایک بہت بڑے جادوگر کا مقابلہ کرنا ہے ‘ لیکن جب یہ لوگ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے مقابلے میں آئے تو آپ علیہ السلام کی با رعب شخصیت سے مرعوب ہوئے بغیر نہ رہ سکے اور مقابلہ کرنے کے بارے میں تذبذب کا شکار ہوگئے۔ قبل ازیں آیت 62 میں ان کی اس کیفیت کی جھلک دکھائی گئی ہے۔ اب جادوگروں کے اس اقراری بیان سے مزید واضح ہوگیا کہ وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو دیکھ لینے اور آپ علیہ السلام کی تقریر سن لینے کے بعد آپ علیہ السلام سے مقابلہ نہیں کرنا چاہتے تھے ‘ لیکن بالآخر فرعون کے مجبور کرنے پر وہ اس پر آمادہ ہوگئے تھے۔وَاللّٰہُ خَیْرٌ وَّاَبْقٰی ”حق کو قبول کرلینے اور اللہ پر ایمان لا چکنے کے بعد اب ہم پر یہ حقیقت منکشف ہوچکی ہے کہ بقاء و دوام صرف اللہ ہی کو حاصل ہے اور اسی کا راستہ سب سے بہتر راستہ ہے۔