Entrar
Entrar
Entrar
Selecione o idioma

Tazkir ul Quran Tafsir: Sad Aia 88

38:88
ولتعلمن نباه بعد حين ٨٨
وَلَتَعْلَمُنَّ نَبَأَهُۥ بَعْدَ حِينٍۭ ٨٨
وَلَتَعۡلَمُنَّﱟ
نَبَأَهُۥﱠ
بَعۡدَﱡ
حِينِۭﱢ
٨٨ﱣ
E, certamente, logo tereis conhecimento da sua veracidade.
Tafsirs
Camadas
Lições
Reflexões
Respostas
Qiraat
Hadith
Você está lendo um tafsir para o grupo de versos 38:86 a 38:88

داعی کی ایک لازمی صفت یہ ہے کہ وہ مدعو سے اجر کا طالب نہیں ہوتا۔ وہ اپنے اور مدعو کے درمیان کوئی مادی جھگڑا نہیں کھڑا کرتا۔ قرآن کی دعوت آخرت کی دعوت ہے۔ اس ليے جو شخص ایسا کرے کہ وہ ایک طرف قرآن کی دعوتِ آخرت کا علم بردار ہو، اور اسی کے ساتھ مدعو قوم سے مادی مطالبات کی مہم بھی چلائے وہ مدعو کی نظر میں ایک غیر سنجیدہ آدمی ہے۔ اور جو آدمی خود اپنی غیرسنجیدگی ثابت کردے اس کی بات پر کون دھیان دے گا۔

اسی طرح داعی اپنی طرف سے بنا کر کوئی بات نہیں کہتا۔ وہ بس وہی کہتا ہے جو خدا کی طرف سے اس کو ملا ہے۔ مسروق تابعی کہتے ہیں کہ ہم عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آئے۔ انھوںنے کہا کہ اے لوگو، جو شخص کچھ جانتا ہو تو اس کو چاہيے کہ بولے۔ اور جو شخص نہ جانتا ہو تو ا س کو یہ کہنا چاہيے کہ اللہ ہی زیادہ جانتا ہے۔ یہ علم کی بات ہے کہ آدمی جس چیز کو نہ جانے اس کے بارہ میں کہہ دے کہ اللہ زیادہ جانتا ہے۔ کیونکہ اللہ عزو جل نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا کہ کہو کہ میں اس پر تم سے اجر نہیں مانگتا اور میں تکلف کرنے والوں میں سے نہیں ہوں (صحیح البخاری، حدیث نمبر 4809)۔

اسی طرح داعی کی یہ صفت ہے کہ وہ دعوت کو نصیحت کے روپ میں پیش کرے۔ اس کا کلام خیر خواہانہ کلام ہو، نہ کہ مناظرانہ کلام۔