Entrar
Entrar
Entrar
Selecione o idioma

Bayan ul Quran Tafsir: Saba Aia 12

34:12
ولسليمان الريح غدوها شهر ورواحها شهر واسلنا له عين القطر ومن الجن من يعمل بين يديه باذن ربه ومن يزغ منهم عن امرنا نذقه من عذاب السعير ١٢
وَلِسُلَيْمَـٰنَ ٱلرِّيحَ غُدُوُّهَا شَهْرٌۭ وَرَوَاحُهَا شَهْرٌۭ ۖ وَأَسَلْنَا لَهُۥ عَيْنَ ٱلْقِطْرِ ۖ وَمِنَ ٱلْجِنِّ مَن يَعْمَلُ بَيْنَ يَدَيْهِ بِإِذْنِ رَبِّهِۦ ۖ وَمَن يَزِغْ مِنْهُمْ عَنْ أَمْرِنَا نُذِقْهُ مِنْ عَذَابِ ٱلسَّعِيرِ ١٢
وَلِسُلَيۡمَٰنَﲒ
ٱلرِّيحَﲓ
غُدُوُّهَاﲔ
شَهۡرٞﲕ
وَرَوَاحُهَاﲖ
شَهۡرٞۖﲗﲘ
وَأَسَلۡنَاﲙ
لَهُۥﲚ
عَيۡنَﲛ
ٱلۡقِطۡرِۖﲜﲝ
وَمِنَﲞ
ٱلۡجِنِّﲟ
مَنﲠ
يَعۡمَلُﲡ
بَيۡنَﲢ
يَدَيۡهِﲣ
بِإِذۡنِﲤ
رَبِّهِۦۖﲥﲦ
وَمَنﲧ
يَزِغۡﲨ
مِنۡهُمۡﲩ
عَنۡﲪ
أَمۡرِنَاﲫ
نُذِقۡهُﲬ
مِنۡﲭ
عَذَابِﲮ
ٱلسَّعِيرِﲯ
١٢ﲰ
E fizemos o vento (obediente) a Salomão, cujo trajeto matinal equivale a um mês (de viagem) e o vespertino a um mês (de viagem). E fizemos brotar, para ele, uma fonte do cobre, e proporcionamos gênios, para trabalharem sob as suas ordens, com a anuência do seu Senhor; e a quem, dentre eles, desacatar as Nossas ordens, infligiremos o castigo do tártaro.
Tafsirs
Camadas
Lições
Reflexões
Respostas
Qiraat
Hadith

آیت 12 { وَلِسُلَیْمٰنَ الرِّیْحَ غُدُوُّہَا شَہْرٌ وَّرَوَاحُہَا شَہْرٌ} ”اور سلیمان علیہ السلام کے لیے ہوا کو مسخر کردیا تھا ‘ اس کا صبح کو چلنا بھی ایک ماہ کا سفر تھا اور اس کا شام کو چلنا بھی ایک ماہ کا سفر تھا۔“ حضرت سلیمان علیہ السلام جہاں جانا چاہتے تیز ہوا آپ علیہ السلام کے تخت کو اڑا کر وہاں پہنچا دیتی اور جو فاصلہ اس زمانے کے لوگ مروّجہ سواریوں کے ذریعے ایک ماہ میں طے کرتے حضرت سلیمان علیہ السلام وہ فاصلہ ہوا کے ذریعے سے ایک صبح یا ایک شام میں طے کرلیتے تھے۔ { وَاَسَلْنَا لَہٗ عَیْنَ الْقِطْرِ } ”اور ہم نے اس کے لیے پگھلے ہوئے تانبے کا چشمہ جاری کردیا تھا۔“ { وَمِنَ الْجِنِّ مَنْ یَّعْمَلُ بَیْنَ یَدَیْہِ بِاِذْنِ رَبِّہٖ } ”اور کچھ ِجن بھی اس علیہ السلام کے تابع کردیے تھے جو اس کے سامنے کام کرتے تھے اس کے رب کے حکم سے۔“ { وَمَنْ یَّزِغْ مِنْہُمْ عَنْ اَمْرِنَا نُذِقْہُ مِنْ عَذَابِ السَّعِیْرِ } ”اور ان میں سے جو کوئی بھی ہمارے حکم سے سرتابی کرتا اسے ہم جلا دینے والا عذاب چکھاتے تھے۔“ آگے ان کاموں کی تفصیل بھی بتائی جا رہی ہے جو جنات حضرت سلیمان علیہ السلام کے لیے کرتے تھے۔