Entrar
Entrar
Entrar
Selecione o idioma

Tazkir ul Quran Tafsir: Ghafir Aia 20

40:20
والله يقضي بالحق والذين يدعون من دونه لا يقضون بشيء ان الله هو السميع البصير ٢٠
وَٱللَّهُ يَقْضِى بِٱلْحَقِّ ۖ وَٱلَّذِينَ يَدْعُونَ مِن دُونِهِۦ لَا يَقْضُونَ بِشَىْءٍ ۗ إِنَّ ٱللَّهَ هُوَ ٱلسَّمِيعُ ٱلْبَصِيرُ ٢٠
وَٱللَّهُﱩ
يَقۡضِيﱪ
بِٱلۡحَقِّۖﱫﱬ
وَٱلَّذِينَﱭ
يَدۡعُونَﱮ
مِنﱯ
دُونِهِۦﱰ
لَاﱱ
يَقۡضُونَﱲ
بِشَيۡءٍۗﱳﱴ
إِنَّﱵ
ٱللَّهَﱶ
هُوَﱷ
ٱلسَّمِيعُﱸ
ٱلۡبَصِيرُﱹ
٢٠ﱺ
E Deus julga com eqüidade; por outra, os que os humanos invocam, em vez d'Ele, nada poderão julgar. Sabei que sóDeus é o Oniouvinte, o Onividente.
Tafsirs
Camadas
Lições
Reflexões
Respostas
Qiraat
Hadith
Você está lendo um tafsir para o grupo de versos 40:18 a 40:20

موجودہ دنیا میں انسان کو ہر طرح کے مواقع حاصل ہیں۔ وہ آزاد ہے کہ جو چاہے کرے۔ اس سے آدمی غلط فہمی میں پڑجاتاہے۔ وہ اپنی موجودہ عارضی حالت کو مستقل حالت سمجھ لیتا ہے۔ حالانکہ یہ مواقع جو انسان کو ملے ہیں وہ بطور امتحان ہیں نہ کہ بطور استحقاق۔ امتحان کی مدت ختم ہوتے ہی موجودہ تمام مواقع اس سے چھن جائیں گے۔ اس وقت انسان کو معلوم ہوگا کہ اس کے پاس عجز کے سوا اور کچھ نہیں جس کے سہارے وہ کھڑا ہوسکے۔

آدمی چاہتا ہے کہ بے قید زندگی گزارے۔ اسی مزاج کی وجہ سے آدمی غیر خدا کو بطور خود خدائی میں شریک بناتا ہے تاکہ ان کے نام پر وہ اپنی بے راہ روی کو جائز ثابت کرسکے۔ مگر قیامت میں جب حقیقت بے پردہ ہوکر سامنے آئے گی تو آدمی جان لے گا کہ یہاں خدا کے سوا کوئی نہ تھا جس کو کسی قسم کا اختیار حاصل ہو۔