Entrar
Entrar
Entrar
Selecione o idioma

Tazkir ul Quran Tafsir: Ghafir Aia 18

40:18
وانذرهم يوم الازفة اذ القلوب لدى الحناجر كاظمين ما للظالمين من حميم ولا شفيع يطاع ١٨
وَأَنذِرْهُمْ يَوْمَ ٱلْـَٔازِفَةِ إِذِ ٱلْقُلُوبُ لَدَى ٱلْحَنَاجِرِ كَـٰظِمِينَ ۚ مَا لِلظَّـٰلِمِينَ مِنْ حَمِيمٍۢ وَلَا شَفِيعٍۢ يُطَاعُ ١٨
وَأَنذِرۡهُمۡﱑ
يَوۡمَﱒ
ٱلۡأٓزِفَةِﱓ
إِذِﱔ
ٱلۡقُلُوبُﱕ
لَدَىﱖ
ٱلۡحَنَاجِرِﱗ
كَٰظِمِينَۚﱘﱙ
مَاﱚ
لِلظَّٰلِمِينَﱛ
مِنۡﱜ
حَمِيمٖﱝ
وَلَاﱞ
شَفِيعٖﱟ
يُطَاعُﱠ
١٨ﱡ
Admoesta-os com o dia iminente quando, angustiados, os corações lhes subirão às gargantas. Os iníquos não terãoamigos íntimos, nem intercessores que possam obedecer.
Tafsirs
Camadas
Lições
Reflexões
Respostas
Qiraat
Hadith
Você está lendo um tafsir para o grupo de versos 40:18 a 40:20

موجودہ دنیا میں انسان کو ہر طرح کے مواقع حاصل ہیں۔ وہ آزاد ہے کہ جو چاہے کرے۔ اس سے آدمی غلط فہمی میں پڑجاتاہے۔ وہ اپنی موجودہ عارضی حالت کو مستقل حالت سمجھ لیتا ہے۔ حالانکہ یہ مواقع جو انسان کو ملے ہیں وہ بطور امتحان ہیں نہ کہ بطور استحقاق۔ امتحان کی مدت ختم ہوتے ہی موجودہ تمام مواقع اس سے چھن جائیں گے۔ اس وقت انسان کو معلوم ہوگا کہ اس کے پاس عجز کے سوا اور کچھ نہیں جس کے سہارے وہ کھڑا ہوسکے۔

آدمی چاہتا ہے کہ بے قید زندگی گزارے۔ اسی مزاج کی وجہ سے آدمی غیر خدا کو بطور خود خدائی میں شریک بناتا ہے تاکہ ان کے نام پر وہ اپنی بے راہ روی کو جائز ثابت کرسکے۔ مگر قیامت میں جب حقیقت بے پردہ ہوکر سامنے آئے گی تو آدمی جان لے گا کہ یہاں خدا کے سوا کوئی نہ تھا جس کو کسی قسم کا اختیار حاصل ہو۔