Entrar
Entrar
Entrar
Selecione o idioma

Bayan ul Quran Tafsir: At-Tur Aia 32

52:32
ام تامرهم احلامهم بهاذا ام هم قوم طاغون ٣٢
أَمْ تَأْمُرُهُمْ أَحْلَـٰمُهُم بِهَـٰذَآ ۚ أَمْ هُمْ قَوْمٌۭ طَاغُونَ ٣٢
أَمۡﱁ
تَأۡمُرُهُمۡﱂ
أَحۡلَٰمُهُمﱃ
بِهَٰذَآۚﱄﱅ
أَمۡﱆ
هُمۡﱇ
قَوۡمٞﱈ
طَاغُونَﱉ
٣٢ﱊ
São, acaso, suas faculdades mentais que os induzem a isso, ou é que são um povo de transgressores?
Tafsirs
Camadas
Lições
Reflexões
Respostas
Qiraat
Hadith

آیت 32{ اَمْ تَاْمُرُہُمْ اَحْلَامُہُمْ بِہٰذَآ اَمْ ہُمْ قَوْمٌ طَاغُوْنَ۔ } ”کیا ان کی عقلیں انہیں یہی کچھ سکھا رہی ہیں یا یہ ہیں ہی سرکش لوگ ؟“ مشرکین کے ایمان نہ لانے کی یہ دو ہی ممکنہ وجوہات تھیں۔ یا تو واقعتا انہیں بات سمجھ نہیں آرہی تھی اور ان کی عقلیں انہیں یہی سکھاتی تھیں کہ محمد ﷺ جو کچھ کہہ رہے ہیں یہ محض شاعری اور ان کا من گھڑت کلام ہے۔ دوسرا امکان یہ تھا کہ بات ان کی سمجھ میں بھی آتی تھی اور ان کے دل گواہی بھی دیتے تھے کہ یہ سب کچھ درست ہے مگر وہ اپنی سرکشی ‘ ضد اور عناد کی وجہ سے انکار پر جمے رہنے کو ترجیح دیتے تھے۔ اور حقیقت یہی ہے کہ محمد رسول اللہ ﷺ کی مخالفت میں یہ ساری باتیں وہ عقل سے نہیں بلکہ سراسر ضد ‘ عناد اور ہٹ دھرمی کی بنا پر کر رہے تھے۔ دراصل نفس انسانی کی سرکشی بھی دریا کی طغیانی کی طرح ہے جس کے سامنے منطق ‘ تدبیر ‘ کوشش وغیرہ کسی کی نہیں چلتی۔ بقول الطاف حسین حالی : ؎دریا کو اپنی موج کی طغیانیوں سے کام کشتی کسی کی پار ہو یا درمیاں رہے !