Entrar
Entrar
Entrar
Selecione o idioma

Tazkir ul Quran Tafsir: Ash-Shuraa Aia 41

42:41
ولمن انتصر بعد ظلمه فاولايك ما عليهم من سبيل ٤١
وَلَمَنِ ٱنتَصَرَ بَعْدَ ظُلْمِهِۦ فَأُو۟لَـٰٓئِكَ مَا عَلَيْهِم مِّن سَبِيلٍ ٤١
وَلَمَنِﲭ
ٱنتَصَرَﲮ
بَعۡدَﲯ
ظُلۡمِهِۦﲰ
فَأُوْلَٰٓئِكَﲱ
مَاﲲ
عَلَيۡهِمﲳ
مِّنﲴ
سَبِيلٍﲵ
٤١ﲶ
Contudo, aqueles que se vingarem, quando houverem sido vituperados, não serão incriminados.
Tafsirs
Camadas
Lições
Reflexões
Respostas
Qiraat
Hadith
Você está lendo um tafsir para o grupo de versos 42:37 a 42:43

ايمان جب حقيقي معنوں ميں كسي كو حاصل هوتا هے تو وه اس كے اندر انقلاب پيداكرتا هے۔ اس كے اندر ايك نئي شخصيت ابھرتي هے۔ يهاں ايك بندهٔ خدا كي جن خصوصيات كا ذكر هے وه سب وهي هيں جو اس ايماني شخصيت كے نتيجے ميں كسي كے اندر ظاهر هوتي هيں۔

ايسے شخص كے اندر حقيقتِ واقعه كے اعتراف كا مزاج پيداهوتا هے۔ وه خدا كے خدا هونے اور اپنے بنده هونے كي حيثيت كا اعتراف كرتے هوئے اس كے آگے جھك جاتا هے۔ خدا كي ايك پكار بلند هو تو اس كے ليے ناممكن هوجاتاهے كه وه اس پر لبيك نه كهے۔ ايمانی شعور اس كو صحيح اور غلط كے بارے ميں حساس بنا ديتا هے۔ وه وهي كرتا هے جو كرنا چاهئے اور وه نهيں كرتا جو نهيں كرنا چاهئے۔

اپني حيثيت واقعي كا اعتراف اس كے اندر تواضع پيدا كرتا هے جو اس سے غصه، ظلم اور سركشي كا مزاج چھين ليتا هے،يهي تواضع اس كو مجبور كرتا هے كه اجتماعي معاملات ميں وه دوسروں كے مشوره سے فائده اٹھائے وه محض اپني ذاتي رائے كي بنياد پر اقدام سے پرهيز كرے۔ دوسروں كے ساتھ اس كا رشته خير خواهي كا هوتاهے، نه كه ضد اور استحصال كا۔ايسا آدمي دوسروں كے خلاف كبھي جارحيت نهيں كرتا۔ دوسروں كے خلاف وه جب بھي اقدام كرتا هے تو دفاع كے طورپر كرتاهے اور اتنا هي كرتا هے جتنا ان كے ظلم كو روكنے كے ليے ضروري هو۔ وه عين اشتعال انگيز حالات ميں بھي اس كے لیے تيار رهتاهے كه لوگوں كو معاف كردے اور انھوں نے اس كےساتھ جو برائي كي هے اس كو بھول جائے۔

بندهٔ مومن يه سارے كام اپنے جذبهٔ ايمان كے تحت كرتاهے تاهم الله اس كي قدرداني اس طرح فرماتاهے كه اس كو اهلِ همت اور اولوالعزم كے خطاب سے نوازتا هے،اور اس كو ابدي نعمتوں كے باغ ميں داخل كرديتاهے۔