Entrar
Entrar
Entrar
Selecione o idioma

Tafsir: Ali 'Imran 3:101

3:101
وكيف تكفرون وانتم تتلى عليكم ايات الله وفيكم رسوله ومن يعتصم بالله فقد هدي الى صراط مستقيم ١٠١
وَكَيْفَ تَكْفُرُونَ وَأَنتُمْ تُتْلَىٰ عَلَيْكُمْ ءَايَـٰتُ ٱللَّهِ وَفِيكُمْ رَسُولُهُۥ ۗ وَمَن يَعْتَصِم بِٱللَّهِ فَقَدْ هُدِىَ إِلَىٰ صِرَٰطٍۢ مُّسْتَقِيمٍۢ ١٠١
وَكَيۡفَ
تَكۡفُرُونَ
وَأَنتُمۡ
تُتۡلَىٰ
عَلَيۡكُمۡ
ءَايَٰتُ
ٱللَّهِ
وَفِيكُمۡ
رَسُولُهُۥۗ
وَمَن
يَعۡتَصِم
بِٱللَّهِ
فَقَدۡ
هُدِيَ
إِلَىٰ
صِرَٰطٖ
مُّسۡتَقِيمٖ
١٠١
E como podeis descrer, já que vos são recitados os versículos de Deus, e entre vós está o Seu Mensageiro? Quem seapegar a Deus encaminhar-se-á à senda reta.
Tafsirs
Camadas
Lições
Reflexões
Respostas
Qiraat
Hadith
Você está lendo um tafsir para o grupo de versos 3:100 a 3:101
کامیابی کا انحصار کس پر ہے ٭٭

اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو اہل کتاب کے اس بدباطن فرقہ کی اتباع کرنے سے روک رہا ہے کیونکہ یہ حاسد ایمان کے دشمن ہیں اور عرب کی رسالت انہیں ایک آنکھ نہیں بھاتی، جیسے اور جگہ ہے آیت «وَدَّ كَثِيرٌ مِّنْ أَهْلِ الْكِتَابِ لَوْ يَرُدُّونَكُم مِّن بَعْدِ إِيمَانِكُمْ كُفَّارًا حَسَدًا مِّنْ عِندِ أَنفُسِهِم مِّن بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمُ الْحَقُّ» [2-البقرة:109] ‏، یہ لوگ جل بھن رہے ہیں۔ اور تمہیں ایمان سے ہٹانا چاہتے ہیں تم ان کے کھوکھلے دباؤ میں نہ آ جانا، گو کفر تم سے بہت دور ہے لیکن پھر بھی میں تمہیں آگاہ کئے دیتا ہوں، اللہ تعالیٰ کی آیتیں دن رات تم میں پڑھی جا رہی ہیں اور اللہ تعالیٰ کا سچا رسول صلی اللہ علیہ وسلم تم میں موجود ہے۔

صفحہ نمبر1210

جیسے اور جگہ ہے آیت «وَمَا لَكُمْ لاَ تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالرَّسُولُ يَدْعُوكُمْ لِتُؤْمِنُواْ بِرَبِّكُمْ وَقَدْ أَخَذَ مِيثَـقَكُمْ إِن كُنتُمْ مُّؤْمِنِينَ» [57-الحديد:8] ‏ تم ایمان کیسے نہ لاؤ رسول صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں تمہارے رب کی طرف بلا رہے ہیں اور تم سے عہد بھی لیا جا چکا ہے،

حدیث شریف میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک روز اپنے اصحاب کرام رضی اللہ عنہم سے پوچھا تمہارے نزدیک سب سے بڑا ایمان والا کون ہے؟ انہوں نے کہا فرشتے آپ نے فرمایا بھلا وہ ایمان کیوں نہ لاتے؟ انہیں تو اللہ تعالیٰ کی وحی سے براہ راست تعلق ہے، صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا پھر ہم، فرمایا تم ایمان کیوں نہ لاتے تم میں تو میں خود موجود ہوں صحابہ نے کہا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خود ہی ارشاد فرمائیں فرمایا کہ تمام لوگوں سے زیادہ عجیب ایمان والے وہ ہوں گے جو تمہارے بعد آئیں گے وہ کتابوں میں لکھا پائیں گے اور اس پر ایمان لائیں گے [طبرانی:3537:ضعیف] ‏ (‏امام ابن کثیر رحمہ اللہ نے اس حدیث کی سندوں کا اور اس کے معنی کا پورا بیان شرح صحیح بخاری میں کر دیا ہے فالحمدللہ)

پھر فرمایا کہ باوجود اس کے تمہارا مضبوطی سے اللہ کے دین کو تھام رکھنا اور اللہ تعالیٰ کی پاک ذات پر پورا توکل رکھنا ہی موجب ہدایت ہے اسی سے گمراہی دور ہوتی ہے یہی شیوہ رضا کا باعث ہے اسی سے صحیح راستہ حاصل ہوتا ہے اور کامیابی اور مراد ملتی ہے۔

صفحہ نمبر1211