Entrar
Entrar
Entrar
Selecione o idioma

Bayan ul Quran Tafsir: Al-An'am Aia 26

6:26
وهم ينهون عنه ويناون عنه وان يهلكون الا انفسهم وما يشعرون ٢٦
وَهُمْ يَنْهَوْنَ عَنْهُ وَيَنْـَٔوْنَ عَنْهُ ۖ وَإِن يُهْلِكُونَ إِلَّآ أَنفُسَهُمْ وَمَا يَشْعُرُونَ ٢٦
وَهُمۡﳖ
يَنۡهَوۡنَﳗ
عَنۡهُﳘ
وَيَنۡـَٔوۡنَﳙ
عَنۡهُۖﳚﳛ
وَإِنﳜ
يُهۡلِكُونَﳝ
إِلَّآﳞ
أَنفُسَهُمۡﳟ
وَمَاﳠ
يَشۡعُرُونَﳡ
٢٦ﳢ
E impedem os demais, apartando-os dele (o Alcorão); mas, com isso, não fazem mais do que se prejudicar, sem osentirem.
Tafsirs
Camadas
Lições
Reflexões
Respostas
Qiraat
Hadith

آیت 26 وَہُمْ یَنْہَوْنَ عَنْہُ وَیَنْءَوْنَ عَنْہُ ج۔یہاں آپس میں ملتے جلتے دو افعال استعمال ہوئے ہیں ‘ ایک کا مادہ ’ ن ہ ی ‘ ہے اور دوسرے کا ’ ن ء ی ‘ ہے۔ نَھٰی یَنْھٰی روکنا تو معروف فعل ہے اور نہی کا لفظ اردو میں بھی عام استعمال ہوتا ہے۔ لہٰذا یَنْہَوْنَ عَنْہُ کے معنی ہیں وہ روکتے ہیں اس سے۔ کس کو روکتے ہیں ؟ اپنے عوام کو۔ ان کی لیڈری اور سرداری عوام کے بل پر ہی تو ہے۔ عوام برگشتہ ہوجائیں گے تو ان کی لیڈری کہاں رہے گی۔ عوام کو اپنے قابو میں کرنا اور ان کی عقل اور سمجھ پر اپنا تسلط قائم رکھنا ایسے نام نہادلیڈروں کے لیے انتہائی ضروری ہوتا ہے۔ لہٰذا ایک طرف تو وہ اپنے عوام کو راہ ہدایت اختیار کرنے سے روکتے ہیں اور دوسری طرف وہ خود اس سے گریز اور پہلو تہی کرتے ہیں۔ نَاٰی یَنْاٰی نَأْیًا کا مفہوم ہے دور ہونا ‘ کنی کترانا جیسے سورة بنی اسرائیل آیت 83 میں فرمایا : وَاِذَآ اَنْعَمْنَا عَلَی الْاِنْسَانِ اَعْرَضَ وَنَاٰبِجَانِبِہٖ ج اور انسان کا حال یہ ہے کہ جب ہم اس پر انعام کرتے ہیں تو منہ پھیرلیتا اور پہلوتہی کرتا ہے۔ چناچہ یَنْءَوْنَ عَنْہُ ط کے معنی ہیں وہ اس سے گریز کرتے ہیں ‘ کنی کتراتے ہیں۔