Entrar
Entrar
Entrar
Selecione o idioma

Bayan ul Quran Tafsir: Al-Ahqaf Aia 24

46:24
فلما راوه عارضا مستقبل اوديتهم قالوا هاذا عارض ممطرنا بل هو ما استعجلتم به ريح فيها عذاب اليم ٢٤
فَلَمَّا رَأَوْهُ عَارِضًۭا مُّسْتَقْبِلَ أَوْدِيَتِهِمْ قَالُوا۟ هَـٰذَا عَارِضٌۭ مُّمْطِرُنَا ۚ بَلْ هُوَ مَا ٱسْتَعْجَلْتُم بِهِۦ ۖ رِيحٌۭ فِيهَا عَذَابٌ أَلِيمٌۭ ٢٤
فَلَمَّاﱷ
رَأَوۡهُﱸ
عَارِضٗاﱹ
مُّسۡتَقۡبِلَﱺ
أَوۡدِيَتِهِمۡﱻ
قَالُواْﱼ
هَٰذَاﱽ
عَارِضٞﱾ
مُّمۡطِرُنَاۚﱿﲀ
بَلۡﲁ
هُوَﲂ
مَاﲃ
ٱسۡتَعۡجَلۡتُمﲄ
بِهِۦۖﲅﲆ
رِيحٞﲇ
فِيهَاﲈ
عَذَابٌﲉ
أَلِيمٞﲊ
٢٤ﲋ
Mas quando viram aquilo (o castigo), como nuvens, avançando sobre os seus vales, disseram: Esta é uma nuvem dechuva! Retrucou-lhes: Qual! É a (calamidade) que desejastes fosse apressada; um vento que encerra um doloroso castigo!
Tafsirs
Camadas
Lições
Reflexões
Respostas
Qiraat
Hadith

آیت 24 { فَلَمَّا رَاَوْہُ عَارِضًا مُّسْتَقْبِلَ اَوْدِیَتِہِمْ } ”پھر جب انہوں نے اس عذاب کو دیکھا بادل کی صورت میں اپنی وادیوں کی طرف بڑھتے ہوئے“ { قَالُوْا ہٰذَا عَارِضٌ مُّمْطِرُنَا } ”تو انہوں نے کہا : یہ تو بادل ہے جو ہم کو سیراب کرنے والا ہے۔“ وہ اسے دیکھ کر خوشیاں منانے لگے کہ ابھی بارش ہوگی اور جل تھل ایک ہوجائیں گے۔ { بَلْ ہُوَ مَا اسْتَعْجَلْتُمْ بِہٖ } ”نہیں ! بلکہ یہ تو وہ شے ہے جس کے بارے میں تم نے جلدی مچارکھی تھی !“ تم لوگ خود ہی کہتے تھے نا کہ لے آئو ہم پر عذاب اگر لاسکتے ہو ‘ تو دیکھ لو : { رِیْحٌ فِیْہَا عَذَابٌ اَلِیْمٌ } ”یہ وہ جھکڑ ّہے جس میں بہت دردناک عذاب ہے۔“ اس تیز ہوا کے جھکڑ کی کیفیت سورة الحاقہ میں اس طرح بیان ہوئی ہے : { سَخَّرَہَا عَلَیْہِمْ سَبْعَ لَیَالٍ وَّثَمٰنِیَۃَ اَیَّامٍلا حُسُوْمًا لا فَتَرَی الْقَوْمَ فِیْہَا صَرْعٰیلا کَاَنَّہُمْ اَعْجَازُ نَخْلٍ خَاوِیَۃٍ } ”اللہ نے مسلط کیے رکھا اسے ان پر سات راتیں اور آٹھ دن ‘ نیست و نابود کردینے کے لیے ‘ پس تم دیکھتے اس قوم کو اس میں پچھڑے ہوئے جیسے وہ گری ہوئی کھجوروں کے تنے ہوں۔“