Log masuk
Log masuk
Log masuk
Pilih Bahasa

Tafsir: Yusuf 12:70

12:70
فلما جهزهم بجهازهم جعل السقاية في رحل اخيه ثم اذن موذن ايتها العير انكم لسارقون ٧٠
فَلَمَّا جَهَّزَهُم بِجَهَازِهِمْ جَعَلَ ٱلسِّقَايَةَ فِى رَحْلِ أَخِيهِ ثُمَّ أَذَّنَ مُؤَذِّنٌ أَيَّتُهَا ٱلْعِيرُ إِنَّكُمْ لَسَـٰرِقُونَ ٧٠
فَلَمَّا
جَهَّزَهُم
بِجَهَازِهِمۡ
جَعَلَ
ٱلسِّقَايَةَ
فِي
رَحۡلِ
أَخِيهِ
ثُمَّ
أَذَّنَ
مُؤَذِّنٌ
أَيَّتُهَا
ٱلۡعِيرُ
إِنَّكُمۡ
لَسَٰرِقُونَ
٧٠
Maka ketika ia membekalkan mereka dengan bekalan makan (yang mencukupi keperluan) mereka, lalu ia meletakkan bijana minuman raja di kenderaan saudaranya (Bunyamin), kemudian menyeru seorang penyeru:" Wahai orang-orang kafilah ini, sesungguhnya kamu adalah pencuri ".
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Renungan
Jawapan
Qiraat
Hadis
Anda sedang membaca tafsir untuk kumpulan ayat dari 12:70 hingga 12:72
باب

جب آپ اپنے بھائیوں کو حسب عادت ایک ایک اونٹ غلے کا دینے لگے اور ان کا اسباب لدنے لگا تو اپنے چالاک ملازموں سے چپکے سے اشارہ کر دیا کہ چاندی کا شاہی کٹورا بنیامین کے اسباب میں چپکے سے رکھ دیں۔ بعض نے کہا ہے یہ کٹورا سونے کا تھا۔ اسی میں پانی پیا جاتا تھا اور اسی سے غلہ بھر کے دیا جاتا تھا بلکہ ویسا ہی پیالہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس بھی تھا۔ پس آپ کے ملازمین نے ہوشیاری سے وہ پیالہ آپ علیہ السلام کے بھائی بنیامین کی خورجی میں رکھ دیا۔ جب یہ چلنے لگے تو سنا کہ پیچھے سے منادی ندا کرتا آ رہا ہے کہ اے قافلے والو تم چور ہو۔ ان کے کان کھڑے، رک گئے، ادھر متوجہ ہوئے اور پوچھا کہ آپ کی کیا چیز کھو گئی ہے؟ جواب ملا کہ شاہی پیمانہ جس سے اناج ناپا جاتا تھا، سنو شاہی اعلان ہے کہ اس کے ڈھونڈ لانے والے کو ایک بوجھ غلہ ملے گا اور میں خود ضامن ہوں۔

صفحہ نمبر4045