Log masuk
Log masuk
Log masuk
Pilih Bahasa

Tazkir ul Quran Tafsir: Yusuf Ayah 68

12:68
ولما دخلوا من حيث امرهم ابوهم ما كان يغني عنهم من الله من شيء الا حاجة في نفس يعقوب قضاها وانه لذو علم لما علمناه ولاكن اكثر الناس لا يعلمون ٦٨
وَلَمَّا دَخَلُوا۟ مِنْ حَيْثُ أَمَرَهُمْ أَبُوهُم مَّا كَانَ يُغْنِى عَنْهُم مِّنَ ٱللَّهِ مِن شَىْءٍ إِلَّا حَاجَةًۭ فِى نَفْسِ يَعْقُوبَ قَضَىٰهَا ۚ وَإِنَّهُۥ لَذُو عِلْمٍۢ لِّمَا عَلَّمْنَـٰهُ وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ ٦٨
وَلَمَّاﲬ
دَخَلُواْﲭ
مِنۡﲮ
حَيۡثُﲯ
أَمَرَهُمۡﲰ
أَبُوهُمﲱ
مَّاﲲ
كَانَﲳ
يُغۡنِيﲴ
عَنۡهُمﲵ
مِّنَﲶ
ٱللَّهِﲷ
مِنﲸ
شَيۡءٍﲹ
إِلَّاﲺ
حَاجَةٗﲻ
فِيﲼ
نَفۡسِﲽ
يَعۡقُوبَﲾ
قَضَىٰهَاۚﲿﳀ
وَإِنَّهُۥﳁ
لَذُوﳂ
عِلۡمٖﳃ
لِّمَاﳄ
عَلَّمۡنَٰهُﳅ
وَلَٰكِنَّﳆ
أَكۡثَرَﳇ
ٱلنَّاسِﳈ
لَاﳉ
يَعۡلَمُونَﳊ
٦٨ﳋ
Dan ketika mereka masuk menurut arah yang diperintahkan oleh bapa mereka, tidaklah perintahnya itu dapat menyelamatkan mereka dari apa yang telah ditakdirkan oleh Allah sedikitpun, tetapi yang demikian itu hanyalah melahirkan hajat yang terpendam dalam hati Nabi Yaakub. Dan sesungguhnya ia orang yang berilmu, kerana kami telah mengajarnya (dengan perantaraan wahyu); tetapi kebanyakan manusia tidak mengetahui (akan rahsia takdir Tuhan).
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Renungan
Jawapan
Qiraat
Hadis
Anda sedang membaca tafsir untuk kumpulan ayat dari 12:67 hingga 12:68

مصر کا قدیم دار السلطنت ایک ایسا شہر تھا جس کے چاروں طرف اونچی فصیل تھی اور مختلف سمتوں میں داخلہ کے لیے دروازے بنے ہوئے تھے۔ حضرت یعقوب کا اپنے بیٹوں سے یہ کہنا کہ تم لوگ اكٹھا ہو کر ایک ہی دروازے سے داخل نہ ہو بلکہ متفرق دروازوں سے داخل ہو، اس اندیشہ کی بنا پر تھا کہ ان کے دشمن انھیں ہلاک کرنے کی کوشش نہ کریں )قيل إنه أحب أن لا يفطن بهم أعداؤهم فيحتالوا لإهلاكهم) تفسیر النسفی، جلد2، صفحہ 124 ۔

اس اندیشہ کا معاملہ اسی سورہ کی آیت نمبر 73 سے واضح ہے جس میں برادرانِ یوسف اپنی برأت ان الفاظ میں کرتے ہیں کہ ہم یہاں فساد کے لیے یا چوری کے لیے نہیں آئے ہیں۔ برادران ِیوسف مصر میں باہر سے آئے تھے۔ ان کے لباس مقامی لوگوں کے لباس سے مختلف تھے۔ وہ اپنے حلیہ سے یقیناًمصر والوں کو اجنبی دکھائی دیتے ہوں گے۔ ایسے گیارہ آدمیوں کا ایک ساتھ شہر میں داخل ہونا انھیں لوگوں کی نظر میں مشتبہ بنا سکتا تھا۔ اس لیے مقامی لوگوں سے کسی غیر ضروری ٹکراؤ سے بچنے کے لیے انھوں نے ان کو یہ ہدایت کی کہ شہر میں داخل ہو تو ایک ساتھ جـتھے کی صورت میں داخل نہ ہو۔

مومن کی نظر ایک طرف خدا کی قدرت کاملہ پر ہوتی ہے۔ وہ دیکھتاہے کہ اس کائنات میں خدا کے سوا کسی کوکوئی اختیار حاصل نہیں۔ اسی کے ساتھ وہ جانتا ہے کہ یہ دنیا دار الامتحان ہے۔ یہاں امتحان کی مصلحت سے خدا نے ہر معاملہ کو ظاہری اسباب کے ماتحت کررکھا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت یعقوب نے ایک طرف اپنے بیٹوں کو دنیوی تدبیر اختیار کرنے کی تلقین فرمائی۔ دوسری طرف یہ بھی فرمادیا کہ جو کچھ ہوگا خدا کے حکم سے ہوگا کیوں کہ یہاں خدا کے سوا کسی کو کوئی طاقت حاصل نہیں۔