Log masuk
Log masuk
Log masuk
Pilih Bahasa

Tazkir ul Quran Tafsir: Yusuf Ayah 40

12:40
ما تعبدون من دونه الا اسماء سميتموها انتم واباوكم ما انزل الله بها من سلطان ان الحكم الا لله امر الا تعبدوا الا اياه ذالك الدين القيم ولاكن اكثر الناس لا يعلمون ٤٠
مَا تَعْبُدُونَ مِن دُونِهِۦٓ إِلَّآ أَسْمَآءًۭ سَمَّيْتُمُوهَآ أَنتُمْ وَءَابَآؤُكُم مَّآ أَنزَلَ ٱللَّهُ بِهَا مِن سُلْطَـٰنٍ ۚ إِنِ ٱلْحُكْمُ إِلَّا لِلَّهِ ۚ أَمَرَ أَلَّا تَعْبُدُوٓا۟ إِلَّآ إِيَّاهُ ۚ ذَٰلِكَ ٱلدِّينُ ٱلْقَيِّمُ وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ ٤٠
مَاﱨ
تَعۡبُدُونَﱩ
مِنﱪ
دُونِهِۦٓﱫ
إِلَّآﱬ
أَسۡمَآءٗﱭ
سَمَّيۡتُمُوهَآﱮ
أَنتُمۡﱯ
وَءَابَآؤُكُمﱰ
مَّآﱱ
أَنزَلَﱲ
ٱللَّهُﱳ
بِهَاﱴ
مِنﱵ
سُلۡطَٰنٍۚﱶﱷ
إِنِﱸ
ٱلۡحُكۡمُﱹ
إِلَّاﱺ
لِلَّهِﱻ
أَمَرَﱼ
أَلَّاﱽ
تَعۡبُدُوٓاْﱾ
إِلَّآﱿ
إِيَّاهُۚﲀﲁ
ذَٰلِكَﲂ
ٱلدِّينُﲃ
ٱلۡقَيِّمُﲄ
وَلَٰكِنَّﲅ
أَكۡثَرَﲆ
ٱلنَّاسِﲇ
لَاﲈ
يَعۡلَمُونَﲉ
٤٠ﲊ
Apa yang kamu sembah, yang lain dari Allah, hanyalah nama-nama yang kamu menamakannya, kamu dan datuk nenek kamu, Allah tidak pernah menurunkan sebarang bukti yang membenarkannya. Sebenarnya hukum (yang menentukan amal ibadat) hanyalah bagi Allah. Ia memerintahkan supaya kamu jangan menyembah melainkan Dia. Yang demikian itulah Ugama yang betul, tetapi kebanyakan manusia tidak mengetahui.
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Renungan
Jawapan
Qiraat
Hadis
Anda sedang membaca tafsir untuk kumpulan ayat dari 12:37 hingga 12:40

نوجوان قیدیوں نے اپنے خواب کی تعبیر جاننے کے لیے حضرت یوسف سے رجوع کیا۔ انھوں نے جس انداز سے سوال کیا اس سے صاف ظاہر ہو رہا تھا کہ وہ آ پ کی شخصیت سے متاثر ہیں۔ اور آپ کی رائے پر اعتماد کرتے ہیں۔ حضرت یوسف جیسے نیک اور بااصول انسان کے ساتھ ایک عرصہ تک رہنے کے بعد ایسا ہونا بالکل فطری تھا۔

حضرت یوسف کے دعوتی جذبے نے فوراً محسوس کرلیا کہ یہ بہترین موقع ہے کہ ان نوجوانوں کو دینِ حق کا پیغام پہنچایا جائے۔ مگر خواب کی تعبیر فوراً بتادینے کے بعد ان کی توجہ آپ کی طرف سے ہٹ جاتی۔ چنانچہ آپ نے حکیمانہ انداز اختیار کیا اور خواب کی تعبیر کو تھوڑی دیر کے لیے مؤخر کردیا۔ اس کے بعد آپ نے توحید پر مختصر تقریر کی۔ اس میں مخاطب کی نفسیات کی رعایت کرتے ہوئے نہایت خوب صورت استدلال کے ساتھ اپنا پیغام انھیں سنادیا۔

درخت، پتھر، ستارے یا ارواح وغیرہ کو جو لوگ پوجتے ہیں اس کا راز یہ ہے کہ وہ بطور خود ان کو مشکل کشا اور حاجت روا جیسے القاب دیتے ہیں اور سمجھ لیتے ہیں کہ واقعۃً وہ مشکل کشا اور حاجت روا ہیں۔ حالاں کہ یہ سب انسان کے اپنے بنائے ہوئے اسم ہیں جن کا مسمی خارج میں کہیں موجود نہیں۔