Log masuk
Log masuk
Log masuk
Pilih Bahasa

Bayan ul Quran Tafsir: Yusuf Ayah 37

12:37
قال لا ياتيكما طعام ترزقانه الا نباتكما بتاويله قبل ان ياتيكما ذالكما مما علمني ربي اني تركت ملة قوم لا يومنون بالله وهم بالاخرة هم كافرون ٣٧
قَالَ لَا يَأْتِيكُمَا طَعَامٌۭ تُرْزَقَانِهِۦٓ إِلَّا نَبَّأْتُكُمَا بِتَأْوِيلِهِۦ قَبْلَ أَن يَأْتِيَكُمَا ۚ ذَٰلِكُمَا مِمَّا عَلَّمَنِى رَبِّىٓ ۚ إِنِّى تَرَكْتُ مِلَّةَ قَوْمٍۢ لَّا يُؤْمِنُونَ بِٱللَّهِ وَهُم بِٱلْـَٔاخِرَةِ هُمْ كَـٰفِرُونَ ٣٧
قَالَﳄ
لَاﳅ
يَأۡتِيكُمَاﳆ
طَعَامٞﳇ
تُرۡزَقَانِهِۦٓﳈ
إِلَّاﳉ
نَبَّأۡتُكُمَاﳊ
بِتَأۡوِيلِهِۦﳋ
قَبۡلَﳌ
أَنﳍ
يَأۡتِيَكُمَاۚﳎﳏ
ذَٰلِكُمَاﳐ
مِمَّاﳑ
عَلَّمَنِيﳒ
رَبِّيٓۚﳓﳔ
إِنِّيﳕ
تَرَكۡتُﳖ
مِلَّةَﳗ
قَوۡمٖﳘ
لَّاﳙ
يُؤۡمِنُونَﳚ
بِٱللَّهِﳛ
وَهُمﳜ
بِٱلۡأٓخِرَةِﳝ
هُمۡﳞ
كَٰفِرُونَﳟ
٣٧ﳠ
Yusuf menjawab: "(Aku bukan sahaja dapat menerangkan takbir mimpi kamu itu, bahkan) tidak datang kepada kamu sesuatu makanan yang diberikan kepada kamu (tiap-tiap hari dalam penjara), melainkan aku juga dapat memberitahu kepada kamu akan nama dan jenisnya, sebelum ia dibawa kepada kamu. Yang demikian itu ialah sebahagian dari apa yang diajarkan kepadaku oleh Tuhanku. Dengan sebab itu aku meninggalkan ugama kaum yang tidak beriman kepada Allah serta tidak pula percayakan hari akhirat.
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Renungan
Jawapan
Qiraat
Hadis

آیت 37 قَالَ لَا يَاْتِيْكُمَا طَعَامٌ تُرْزَقٰنِهٖٓ اِلَّا نَبَّاْتُكُمَا بِتَاْوِيْـلِهٖ قَبْلَ اَنْ يَّاْتِيَكُمَاجیل میں قیدیوں کے کھانے کے اوقات مقرر ہوں گے۔ آپ نے فرمایا کہ آپ لوگ اب تعبیر کے بارے میں فکر مت کرو ‘ وہ تو میں کھانا آنے سے پہلے پہلے آپ لوگوں کو بتادوں گا لیکن میں تم لوگوں سے اس کے علاوہ بھی بات کرنا چاہتا ہوں ‘ لہٰذا اس وقت تم لوگ میری بات سنو۔ حضرت یوسف کا یہ طریقہ ایک داعی حق کے لیے راہنمائی کا ذریعہ ہے۔ ایک داعی کی ہر وقت یہ کوشش ہونی چاہیے کہ تبلیغ کے لیے حق بات لوگوں تک پہنچانے کے لیے جب اور جہاں موقع میسر آئے اس سے فائدہ اٹھائے۔ چناچہ حضرت یوسف نے دیکھا کہ لوگ میری طرف خود متوجہ ہوئے ہیں تو آپ نے اس موقع کو غنیمت جانا اور ان کی حاجت کو مؤخر کرکے پہلے انہیں پیغامِ حق پہنچانا ضروری سمجھا۔ ذٰلِكُمَا مِمَّا عَلَّمَنِيْ رَبِّيْ آپ نے انہی کی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے اپنی بات شروع کی اور خوابوں کی تعبیر کے حوالے سے اللہ تعالیٰ کا تعارف کرایا کہ یہ علم مجھے میرے رب نے سکھایا ہے اس میں میرا اپنا کوئی کمال نہیں ہے۔