Log masuk
Log masuk
Log masuk
Pilih Bahasa

Tafsir: Yusuf 12:20

12:20
وشروه بثمن بخس دراهم معدودة وكانوا فيه من الزاهدين ٢٠
وَشَرَوْهُ بِثَمَنٍۭ بَخْسٍۢ دَرَٰهِمَ مَعْدُودَةٍۢ وَكَانُوا۟ فِيهِ مِنَ ٱلزَّٰهِدِينَ ٢٠
وَشَرَوۡهُﲗ
بِثَمَنِۭﲘ
بَخۡسٖﲙ
دَرَٰهِمَﲚ
مَعۡدُودَةٖﲛ
وَكَانُواْﲜ
فِيهِﲝ
مِنَﲞ
ٱلزَّٰهِدِينَﲟ
٢٠ﲠ
Dan (setelah berlaku perundingan) mereka menjualnya dengan harga yang murah, iaitu beberapa dirham sahaja bilangannya; dan mereka adalah orang-orang yang tidak menghargainya.
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Renungan
Jawapan
Qiraat
Hadis

آیت 20 وَشَرَوْهُ بِثَمَنٍۢ بَخْسٍ دَرَاهِمَ مَعْدُوْدَةٍ ۚ وَكَانُوْا فِيْهِ مِنَ الزَّاهِدِيْنَ اگرچہ انہوں نے حضرت یوسف کو مال تجارت سمجھ کر چھپایا تھا ‘ مگر مصر پہنچ کر بالکل ہی معمولی قیمت پر فروخت کردیا۔ اس زمانے میں درہم ایک دینار کا چوتھا حصہ ہوتا تھا۔ گویا انہوں نے چندّ چونیوں کے عوض آپ علیہ السلام کو بیچ دیا۔ اس لیے کہ آپ علیہ السلام کے بارے میں اس وقت تک انہیں کوئی خاص دلچسپی نہیں رہی تھی۔ اس کی دو وجوہات تھیں ‘ ایک تو آپ علیہ السلام ان کے لیے مفت کا مال تھے جس پر ان لوگوں کا کوئی سرمایہ وغیرہ نہیں لگا تھا ‘ لہٰذا جو مل گیا انہوں نے اسے غنیمت جانا۔ دوسرے ان لوگوں کو آپ علیہ السلام کی طرف سے ہر وقت یہ دھڑکا لگا رہتا تھا کہ لڑکے کے وارث آکر کہیں اسے پہچان نہ لیں اور ان پر چوری کا الزام نہ لگ جائے۔ لہٰذا وہ جلد از جلد آپ علیہ السلام کے معاملے سے جان چھڑانا چاہتے تھے۔