Log masuk
Log masuk
Log masuk
Pilih Bahasa

Tazkir ul Quran Tafsir: Yusuf Ayah 19

12:19
وجاءت سيارة فارسلوا واردهم فادلى دلوه قال يا بشرى هاذا غلام واسروه بضاعة والله عليم بما يعملون ١٩
وَجَآءَتْ سَيَّارَةٌۭ فَأَرْسَلُوا۟ وَارِدَهُمْ فَأَدْلَىٰ دَلْوَهُۥ ۖ قَالَ يَـٰبُشْرَىٰ هَـٰذَا غُلَـٰمٌۭ ۚ وَأَسَرُّوهُ بِضَـٰعَةًۭ ۚ وَٱللَّهُ عَلِيمٌۢ بِمَا يَعْمَلُونَ ١٩
وَجَآءَتۡﲃ
سَيَّارَةٞﲄ
فَأَرۡسَلُواْﲅ
وَارِدَهُمۡﲆ
فَأَدۡلَىٰﲇ
دَلۡوَهُۥۖﲈﲉ
قَالَﲊ
يَٰبُشۡرَىٰﲋ
هَٰذَاﲌ
غُلَٰمٞۚﲍﲎ
وَأَسَرُّوهُﲏ
بِضَٰعَةٗۚﲐﲑ
وَٱللَّهُﲒ
عَلِيمُۢﲓ
بِمَاﲔ
يَعۡمَلُونَﲕ
١٩ﲖ
Dan (semasa Yusuf dalam perigi) datanglah ke tempat itu satu rombongan (ahli perniagaan) yang sedang dalam perjalanan; lalu mereka menghantarkan seorang pencari air bagi mereka; (setelah sampainya ke perigi itu) dia pun menghulurkan timbanya (dan manakala ia melihat Yusuf bergantung pada timbanya) ia berseru dengan katanya: "Hai, (ini) sungguh mengembirakan! Ini adalah seorang budak lelaki (yang cantik parasnya)". (Setelah mengetahui hal itu, saudara-saudara Yusuf pun datang) serta mereka sembunyikan keadaan Yusuf yang sebenarnya (untuk dijual) sebagai barang dagangan. Dan Allah Maha Mengetahui akan apa yang mereka lakukan.
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Renungan
Jawapan
Qiraat
Hadis
Anda sedang membaca tafsir untuk kumpulan ayat dari 12:19 hingga 12:20

حضرت یوسف کے بھائی جب آپ کو اندھے کنویں میں ڈال کر چلے گئے تو تین دن بعد ایک تجارتی قافلہ ادھر سے گزرا جو مدین سے مصر جارہا تھا۔ قافلہ کے ایک آدمی نے پانی کی خاطر کنویں میں ڈول ڈالا تو حضرت یوسف (جو اس وقت تقریباً 16 سال کے تھے) ڈول پکڑ کر باہر آگئے۔

یہ بردہ فروشی کا زمانہ تھا۔ اس لیے قافلہ والے خوش ہوئے کہ وہ مصر لے جاکر لڑکے کو فروخت کرسکیں گے۔ چنانچہ جب وہ مصر پہنچے تو اپنے دیگر سامانوں کے ساتھ حضرت یوسف کو بھی بازار میں رکھا۔ وہاں ایک آدمی نے ہونہار لڑکا دیکھ کر آپ کو بیس درہم میں خرید لیا۔

حضرت یوسف کے بھائی آپ کو بے وطن کرکے کنویں میں ڈال چکے تھے۔ قافلہ والوں نے غلام کی حیثیت سے فروخت کردیا۔ اس کے بعد مصر کے ایک اعلیٰ سرکاری افسر کی بیوی (زلیخا) نے آپ کو قید خانہ میں قید کرادیا۔ مگر اللہ تعالیٰ نے ان تمام مراحل کو آپ کے لیے عزّت و سربلندی تک پہنچنے کا زینہ بنا دیا — کس قدر فرق ہے علم انسانی میںاور علم خداوندی میں۔