Log masuk
Log masuk
Log masuk
Pilih Bahasa

Tafsir: Yunus 10:58

10:58
قل بفضل الله وبرحمته فبذالك فليفرحوا هو خير مما يجمعون ٥٨
قُلْ بِفَضْلِ ٱللَّهِ وَبِرَحْمَتِهِۦ فَبِذَٰلِكَ فَلْيَفْرَحُوا۟ هُوَ خَيْرٌۭ مِّمَّا يَجْمَعُونَ ٥٨
قُلۡ
بِفَضۡلِ
ٱللَّهِ
وَبِرَحۡمَتِهِۦ
فَبِذَٰلِكَ
فَلۡيَفۡرَحُواْ
هُوَ
خَيۡرٞ
مِّمَّا
يَجۡمَعُونَ
٥٨
Katakanlah (wahai Muhammad) "kedatangan Al-Quran itu adalah semata-mata dengan limpah kurnia Allah dan kasih sayangNya, maka dengan isi kandungan Al-Quran itulah hendaknya mereka bersukacita (bukan dengan yang lainnya), kerana ia lebih baik daripada apa yang mereka himpunkan dari segala benda dan perkara yang tidak kekal)".
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Renungan
Jawapan
Qiraat
Hadis
Anda sedang membaca tafsir untuk kumpulan ayat dari 10:57 hingga 10:58
رسول صلی اللہ علیہ وسلم کریم کے منصب عظیم کا تذکرہ ٭٭

اپنے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن عظیم نازل فرمانے کے احسان کو اللہ رب العزت بیان فرما رہے ہیں کہ ” اللہ کا وعظ تمہارے پاس آچکا جو تمہیں بدیوں سے روک رہا ہے، جو دلوں کے شک شکوک دور کرنے والا ہے، جس سے ہدایت حاصل ہوتی ہے، جس سے اللہ کی رحمت ملتی ہے۔ جو اس سچائی کی تصدیق کریں اسے مانیں، اس پر یقین رکھیں، اس پر ایمان لائیں وہ اس سے نفع حاصل کرتے ہیں “۔

«وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْآنِ مَا هُوَ شِفَاءٌ وَرَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِينَ وَلَا يَزِيدُ الظَّالِمِينَ إِلَّا خَسَارًا» [17-الاسراء:82] ‏ ” یہ ہمارا نازل کردہ قرآن مومنوں کے لیے شفاء اور رحمت ہے، ظالم تو اپنے نقصان میں ہی بڑھتے رہتے ہیں “۔

اور آیت میں ہے کہ «قُلْ هُوَ لِلَّذِينَ آمَنُوا هُدًى وَشِفَاءٌ وَالَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ فِي آذَانِهِمْ وَقْرٌ وَهُوَ عَلَيْهِمْ عَمًى أُولَـٰئِكَ يُنَادَوْنَ مِن مَّكَانٍ بَعِيدٍ» [41-فصلت:44] ‏ ” کہہ دے کہ یہ تو ایمانداروں کے لیے ہدایت اور شفاء ہے۔ اللہ کے فضل و رحمت یعنی اس قرآن کے ساتھ خوش ہونا چاہیئے۔ دنیائے فانی کے دھن دولت پر ریجھ جانے اور اس پر شادماں و فرحاں ہو جانے سے تو اس دولت کو حاصل کرنے اور اس ابدی خوشی اور دائمی مسرت کو پالینے سے بہت خوش ہونا چاہیئے “۔

ابن ابی حاتم اور طبرانی میں ہے کہ جب عراق فتح ہو گیا اور وہاں سے خراج دربار فاروق رضی اللہ عنہ میں پہنچا تو آپ رضی اللہ عنہ رضی اللہ عنہ نے اونٹوں کی گنتی کرنا چاہی لیکن وہ بے شمار تھے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرکے اسی آیت کی تلاوت کی۔ تو آپ رضی اللہ عنہ کے مولیٰ عمرو نے کہا، یہ بھی تو اللہ کا فضل و رحمت ہی ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”تم نے غلط کہا یہ تمہارے ہمارے حاصل کردہ ہیں جس فضل و رحمت کا بیان اس آیت میں ہے وہ یہ نہیں۔‏“

صفحہ نمبر3719