Log masuk
Log masuk
Log masuk
Pilih Bahasa

Bayan ul Quran Tafsir: Taha Ayah 84

20:84
قال هم اولاء على اثري وعجلت اليك رب لترضى ٨٤
قَالَ هُمْ أُو۟لَآءِ عَلَىٰٓ أَثَرِى وَعَجِلْتُ إِلَيْكَ رَبِّ لِتَرْضَىٰ ٨٤
قَالَﲖ
هُمۡﲗ
أُوْلَآءِﲘ
عَلَىٰٓﲙ
أَثَرِيﲚ
وَعَجِلۡتُﲛ
إِلَيۡكَﲜ
رَبِّﲝ
لِتَرۡضَىٰﲞ
٨٤ﲟ
Nabi Musa menjawab: "Mereka itu ada mengiringi daku tidak jauh dari sini; dan aku segera datang kepadaMu, wahai Tuhanku, supaya Engkau reda akan daku".
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Renungan
Jawapan
Qiraat
Hadis

آیت 84 قَالَ ہُمْ اُولَآءِ عَلآی اَثَرِیْ ”آپ علیہ السلام کی قوم کا قافلہ تو معمول کی رفتار سے آ رہا ہوگا اور آپ علیہ السلام اللہ تعالیٰ سے ملاقات اور مکالمے کے شوق میں تیز رفتاری سے سفر طے کرتے ہوئے وقت مقررہ سے پہلے وہاں پہنچ گئے تھے۔ چناچہ آپ علیہ السلام نے اس کی وجہ بھی یہی بتائی :وَعَجِلْتُ اِلَیْکَ رَبِّ لِتَرْضٰی ”گویا اللہ تعالیٰ کے حضور آپ علیہ السلام فرط جذبات کا اظہار کر رہے تھے۔ اقبالؔ کے مصرع میں ذرا تصرف کے ساتھ ”تو میرا شوق دیکھ مرا اشتیاق دیکھ !“ والی کیفیت تھی۔ آپ علیہ السلام کا خیال تھا اس سے اللہ تعالیٰ خوش ہوں گے اور شاباش ملے گی ‘ مگر یہاں تو لینے کے دینے پڑگئے ‘ الٹی explanation call ہوگئی۔