Log masuk
Log masuk
Log masuk
Pilih Bahasa

Tazkir ul Quran Tafsir: Taha Ayah 81

20:81
كلوا من طيبات ما رزقناكم ولا تطغوا فيه فيحل عليكم غضبي ومن يحلل عليه غضبي فقد هوى ٨١
كُلُوا۟ مِن طَيِّبَـٰتِ مَا رَزَقْنَـٰكُمْ وَلَا تَطْغَوْا۟ فِيهِ فَيَحِلَّ عَلَيْكُمْ غَضَبِى ۖ وَمَن يَحْلِلْ عَلَيْهِ غَضَبِى فَقَدْ هَوَىٰ ٨١
كُلُواْﱲ
مِنﱳ
طَيِّبَٰتِﱴ
مَاﱵ
رَزَقۡنَٰكُمۡﱶ
وَلَاﱷ
تَطۡغَوۡاْﱸ
فِيهِﱹ
فَيَحِلَّﱺ
عَلَيۡكُمۡﱻ
غَضَبِيۖﱼﱽ
وَمَنﱾ
يَحۡلِلۡﱿ
عَلَيۡهِﲀ
غَضَبِيﲁ
فَقَدۡﲂ
هَوَىٰﲃ
٨١ﲄ
Serta Kami katakan: Makanlah dari benda-benda yang baik yang Kami kurniakan kepada kamu, dan janganlah kamu melampaui batas padanya, kerana dengan yang demikian kamu akan ditimpa kemurkaanKu; dan sesiapa yang ditimpa kemurkaanKu, maka sesungguhnya binasalah ia.
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Renungan
Jawapan
Qiraat
Hadis
Anda sedang membaca tafsir untuk kumpulan ayat dari 20:80 hingga 20:82

خلیج کو پارکرنے کے بعد حضرت موسیٰ اور ان کے ساتھی چلتے رہے۔ یہاں تک کہ وہ صحرائے سینا میں پہنچ گئے۔ اس کے بعد کوہ طور کے دامن میں بلا کر خاص اہتمام سے ان کو شریعت عطا کی گئی۔ یہ لوگ چالیس سال تک صحرائے سینا میں رہے۔ یہاں ان کے لیے خصوصی نعمت کے طورپر پانی اور غذا (من وسلویٰ) کا انتظام کیا گيا، جو اس وقت تک مسلسل جاری رہا جب کہ ان کی اگلی نسل فلسطین کے سرسبز علاقہ میں پہنچ گئی۔

اللہ تعالیٰ کے اوپر بندوں کا یہ حق ہے کہ وہ ہر حال میں اپنے بندوں کے ليے رزق فراہم کرے۔ اور بندوں کے اوپر اللہ کا یہ حق ہے کہ وہ کسی حال میں اس کے ساتھ سرکشی نہ کریں۔ جو لوگ خدا کی نعمتوں کے شکر گزار بن کررہیں ان کے لیے خدا کی مزید رحمتیں ہیں۔ اور جو لوگ سرکش بن جائیں ان کے لیے خدا کا شدید عذاب ہے، جو کبھی ختم نہ ہوگا۔