Log masuk
Log masuk
Log masuk
Pilih Bahasa
20:77
ولقد اوحينا الى موسى ان اسر بعبادي فاضرب لهم طريقا في البحر يبسا لا تخاف دركا ولا تخشى ٧٧
وَلَقَدْ أَوْحَيْنَآ إِلَىٰ مُوسَىٰٓ أَنْ أَسْرِ بِعِبَادِى فَٱضْرِبْ لَهُمْ طَرِيقًۭا فِى ٱلْبَحْرِ يَبَسًۭا لَّا تَخَـٰفُ دَرَكًۭا وَلَا تَخْشَىٰ ٧٧
وَلَقَدۡ
أَوۡحَيۡنَآ
إِلَىٰ
مُوسَىٰٓ
أَنۡ
أَسۡرِ
بِعِبَادِي
فَٱضۡرِبۡ
لَهُمۡ
طَرِيقٗا
فِي
ٱلۡبَحۡرِ
يَبَسٗا
لَّا
تَخَٰفُ
دَرَكٗا
وَلَا
تَخۡشَىٰ
٧٧
Dan demi sesungguhnya! Kami telah wahyukan kepada Nabi Musa: "Hendaklah engkau membawa hamba-hambaKu (kaummu) keluar memgembara pada waktu malam, kemudian pukulah air laut dengan tongkatmu, untuk mengadakan jalan yang kering bagi mereka di laut itu; janganlah engkau menaruh bimbang daripada ditangkap oleh musuh, dan jangan pula engkau takut tenggelam".
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Renungan
Jawapan
Qiraat
Hadis
Anda sedang membaca tafsir untuk kumpulan ayat dari 20:77 hingga 20:79

جادوگروں سے مقابلہ کے بعد حضرت موسیٰ کئی سال مصر میں رہے۔ ایک طرف انھوں نے فرعون اور قوم فرعون پر اپنی تبلیغ جاری رکھی۔ دوسری طرف انھوں نے مطالبہ کیا کہ مجھ کو اجازت دے دو کہ میں اپنے ساتھیوں کو لے کر مصر سے باہر صحرائے سینا میں چلا جاؤں اور وہاں آزادی کے ساتھ خدائے واحد کی عبادت کروں۔ مگر فرعون نے نہ تو نصیحت قبول کی اور نہ حضرت موسیٰ کو باہر جانے کی اجازت دی۔

آخر کار حضرت موسیٰ نے خداکے حکم سے خاموش ہجرت کا فیصلہ کیا۔ اس وقت مصر میں جو اسرائیلی یا غیر اسرائیلی مسلمان تھے، سب پیشگی منصوبہ کے تحت ایک خاص مقام پر جمع ہوئے اور وہاں سے رات کے وقت اجتماعی طورپرروانہ ہوگئے۔

یہ قافلہ بحر احمر کی شمالی خلیج تک پہنچا تھا کہ فرعون اپنے لشکر کے ساتھ ان کا پیچھا کرتا ہوا وہاں آگیا۔ پیچھے فرعون کا لشکر تھا اور آگے سمندر کی مانند وسیع خلیج۔ اب حضرت موسیٰ نے خلیج کے پانی پر اپنی لاٹھی ماری۔ خدا کے حکم سے پانی دو ٹکڑے ہوگیا۔ حضرت موسیٰ اور ان کے ساتھی اس کے درمیان خشکی پر چلتے ہوئے دوسری طرف پہنچ گئے۔ یہ دیکھ کر فرعون بھی اس کے اندر داخل ہوگیا۔ مگر فرعون اور اس کا لشکر جیسے ہی درمیان میں پہنچے دونوں طرف کا پانی مل گیا۔ وہ لوگ اس کے اندر غرق ہوگئے— ایک ہی دریا خدا کے وفادار بندوں کے لیے نجات کا راستہ بن گیا۔ اور خدا کے دشمنوں کے لیے موت کا گڑھا۔

لوگ اکثر اپنے قائدین کے بھروسہ پر حق کو نظر انداز کردیتے ہیں۔ مگر فرعون کی مثال بتاتی ہے کہ قائدین کا سہارا نہایت کمزور سہارا ہے۔ اس دنیا میں اصل سہارے والا وہ ہے جو خدا کی آیات کی بنیاد پر اپنی راہ متعین کرے، نہ کہ قوم کے اکابر کی بنیاد پر۔