Log masuk
Log masuk
Log masuk
Pilih Bahasa

Bayan ul Quran Tafsir: Taha Ayah 70

20:70
فالقي السحرة سجدا قالوا امنا برب هارون وموسى ٧٠
فَأُلْقِىَ ٱلسَّحَرَةُ سُجَّدًۭا قَالُوٓا۟ ءَامَنَّا بِرَبِّ هَـٰرُونَ وَمُوسَىٰ ٧٠
فَأُلۡقِيَﱻ
ٱلسَّحَرَةُﱼ
سُجَّدٗاﱽ
قَالُوٓاْﱾ
ءَامَنَّاﱿ
بِرَبِّﲀ
هَٰرُونَﲁ
وَمُوسَىٰﲂ
٧٠ﲃ
(Nabi Musa pun mencampakkan tongkatnya yang terus menelan segala benda sihir mereka), maka keadaan yang demikian menjadikan ahli-ahli sihir itu segera merebahkan diri sujud sambil berkata: "Kami beriman kepada Tuhan yang mengutus Nabi Harun dan Nabi Musa".
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Renungan
Jawapan
Qiraat
Hadis

آیت 70 فَاُلْقِیَ السَّحَرَۃُ سُجَّدًا ”اس نکتے کی وضاحت سورة الاعراف کے مطالعہ کے دوران کی جا چکی ہے کہ آخر کیا وجہ تھی جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کی فتح کے بعد جادو گر تو سر تسلیم خم کرنے پر مجبور ہوگئے ‘ لیکن دوسری طرف نہ فرعون پر اس کا کچھ اثر ہوا اور نہ ہی اس کے درباریوں سمیت دوسرے لوگوں پر۔ دراصل فرعون اور اس کے درباریوں نے تو یہی سمجھا کہ یہ جادوگروں کا آپس میں مقابلہ تھا جس میں بڑے جادوگر نے چھوٹے جادوگروں کو مات دے دی۔ جبکہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے مقابل جادو گر جو اپنے فن کے ماہر تھے وہ اپنے کمال فن کی انتہا سے بھی آگاہ تھے اور اس کی حدود limits سے بھی خوب واقف تھے۔ جیسے آج ایک طبیعیات دان Physicist خوب جانتا ہے کہ فزکس کے میدان میں اب تک کیا کیا ایجادات ہوچکی ہیں اور اس کے کمالات کی رسائی کہاں تک ہے۔ چناچہ جادوگروں پر یہ حقیقت منکشف ہونے میں ذرا بھی دیر نہ لگی کہ نہ تو ان کے مد مقابل شخصیت کوئی جادوگر ہے اور نہ ہی یہ اژدھا کسی جادوئی کرشمے کا کمال ہے ! چناچہ وہ بغیر حیل و حجت سر تسلیم خم کرنے پر مجبور ہوگئے اور :