Log masuk
Log masuk
Log masuk
Pilih Bahasa

Tazkir ul Quran Tafsir: Taha Ayah 64

20:64
فاجمعوا كيدكم ثم ايتوا صفا وقد افلح اليوم من استعلى ٦٤
فَأَجْمِعُوا۟ كَيْدَكُمْ ثُمَّ ٱئْتُوا۟ صَفًّۭا ۚ وَقَدْ أَفْلَحَ ٱلْيَوْمَ مَنِ ٱسْتَعْلَىٰ ٦٤
فَأَجۡمِعُواْﳊ
كَيۡدَكُمۡﳋ
ثُمَّﳌ
ٱئۡتُواْﳍ
صَفّٗاۚﳎﳏ
وَقَدۡﳐ
أَفۡلَحَﳑ
ٱلۡيَوۡمَﳒ
مَنِﳓ
ٱسۡتَعۡلَىٰﳔ
٦٤ﳕ
"Oleh itu, satukanlah segala cara helah kamu, kemudian datanglah beramai-ramai dalam satu barisan untuk menentangnya; dan sesungguhnya beruntunglah orang yang menang pada hari ini".
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Renungan
Jawapan
Qiraat
Hadis
Anda sedang membaca tafsir untuk kumpulan ayat dari 20:62 hingga 20:64

حضرت موسیٰ کی ابتدائی تقریر سے جادو گروں کی جماعت میں اختلاف پڑگیا۔ ان کے ایک گروہ نے کہا کہ یہ جادوگر کا کلام نہیں ہے بلکہ یہ نبی کا کلام ہے۔ دوسرے لوگوں نے کہا کہ نہیں، یہ شخص ہماری ہی طرح کا ایک جادوگر ہے (تفسیر ابن کثیر، جلد5، صفحہ 301 )۔

جادو گر یقینی طورپر اپنے ہم جنسوں کو پہچانتے تھے۔ ان کے تجربہ کار افراد نے محسوس کرلیا کہ یہ جادو کا معاملہ نہیں ہے بلکہ معجزہ کا معاملہ ہے۔ چنانچہ وہ مقابلہ کی ہمت کھوبیٹھے۔ مگر فرعون اور اس کے پر جوش ساتھیوں کے اکسانے پر وہ مقابلہ کے لیے راضی ہوگئے۔

’’蒫薫 ⊀蚫‘‘ کا مطلب ہے افضل طریقہ۔ اس وقت مصریوں کی زندگی کا پورا ڈھانچہ مشرکانہ عقائد کے اوپر قائم تھا۔ سب سے بڑے دیوتا (سورج) کے جسمانی مظہر کی حیثیت سے فرعون کی شخصیت ان کے سیاسی اور سماجی نظام کی بنیاد بنی ہوئی تھی۔ فرعون نے تعصب کے جذبات کو ابھار کر کہا کہ یہ نظام ہمارا قومی نظام ہے۔ اب اگر توحید کے ان علم برداروں کی جیت ہوگئی تو ہمارا پورا قومی نظام اکھڑ جائے گا۔