Log masuk
Log masuk
Log masuk
Pilih Bahasa

Tazkir ul Quran Tafsir: Taha Ayah 47

20:47
فاتياه فقولا انا رسولا ربك فارسل معنا بني اسراييل ولا تعذبهم قد جيناك باية من ربك والسلام على من اتبع الهدى ٤٧
فَأْتِيَاهُ فَقُولَآ إِنَّا رَسُولَا رَبِّكَ فَأَرْسِلْ مَعَنَا بَنِىٓ إِسْرَٰٓءِيلَ وَلَا تُعَذِّبْهُمْ ۖ قَدْ جِئْنَـٰكَ بِـَٔايَةٍۢ مِّن رَّبِّكَ ۖ وَٱلسَّلَـٰمُ عَلَىٰ مَنِ ٱتَّبَعَ ٱلْهُدَىٰٓ ٤٧
فَأۡتِيَاهُﲵ
فَقُولَآﲶ
إِنَّاﲷ
رَسُولَاﲸ
رَبِّكَﲹ
فَأَرۡسِلۡﲺ
مَعَنَاﲻ
بَنِيٓﲼ
إِسۡرَٰٓءِيلَﲽ
وَلَاﲾ
تُعَذِّبۡهُمۡۖﲿﳀ
قَدۡﳁ
جِئۡنَٰكَﳂ
بِـَٔايَةٖﳃ
مِّنﳄ
رَّبِّكَۖﳅﳆ
وَٱلسَّلَٰمُﳇ
عَلَىٰﳈ
مَنِﳉ
ٱتَّبَعَﳊ
ٱلۡهُدَىٰٓﳋ
٤٧ﳌ
"Oleh itu, pergilah kamu berdua kepadanya, kemudian katakanlah: "Bahawa sesungguhnya kami ini Rasul-rasul dari Tuhanmu, maka bebaskanlah kaum Bani lsrail mengikut kami, dan janganlah engkau menyeksakan mereka. Sesungguhnya kami telah datang kepadamu membawa satu tanda (mukjizat) dari Tuhanmu! Dan selamat sejahtera itu adalah untuk orang-orang yang menurut petunjuk ugama Allah.
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Renungan
Jawapan
Qiraat
Hadis
Anda sedang membaca tafsir untuk kumpulan ayat dari 20:45 hingga 20:48

فرعون نہایت متکبر تھا۔ اقتدار پاکر وہ اپنے آپ کو خدا سمجھنے لگا تھا۔ اس لیے حضرت موسیٰ کو اندیشہ ہواکہ جب وہ دیکھے گا کہ اس کے سوا کسی اور خدا کا پیغام اس کو سنایا جارہا ہے تو وہ غصہ میں بھڑک اٹھے گا۔ مگر خدا کا پیغمبر مکمل طورپر خدا کی حفاظت میں ہوتا ہے۔ اس لیے حکم ہوا کہ تم جاؤ اور یہ یقین رکھو کہ فرعون اپنی ساری طاقت اور جبروت کے باوجود تم کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔

بنی اسرائیل قدیم زمانہ کے مسلمان تھے۔ وہ اصلاً ایک موحد قوم تھے۔ مگر مصر کی مشرک قوم کے درمیان رہتے ہوئے وہ مشرکانہ تہذیب سے بری طرح متاثر ہوگئے تھے۔ مزید یہ کہ مشرک حکمرانوں نے بنی اسرائیل کو اس طرح محنت مزدوری میں لگا رکھا تھا کہ وہ اس قابل نہیں رہے تھے کہ وہ توحید اور آخرت کی اعلیٰ حقیقتوں کے بارے میں سوچ سکیں۔ اس لیے حضرت موسیٰ کو حکم ہوا کہ بنی اسرائیل کو مشرکانہ ماحول سے نکالو اور ان کو الگ خطہ زمین میںآباد کرو۔ تاکہ شرک اور جاہلیت کی فضا سے کٹ کر ان کی تربیت ممکن ہوسکے۔