Log masuk
Log masuk
Log masuk
Pilih Bahasa

Tazkir ul Quran Tafsir: Taha Ayah 108

20:108
يوميذ يتبعون الداعي لا عوج له وخشعت الاصوات للرحمان فلا تسمع الا همسا ١٠٨
يَوْمَئِذٍۢ يَتَّبِعُونَ ٱلدَّاعِىَ لَا عِوَجَ لَهُۥ ۖ وَخَشَعَتِ ٱلْأَصْوَاتُ لِلرَّحْمَـٰنِ فَلَا تَسْمَعُ إِلَّا هَمْسًۭا ١٠٨
يَوۡمَئِذٖﲓ
يَتَّبِعُونَﲔ
ٱلدَّاعِيَﲕ
لَاﲖ
عِوَجَﲗ
لَهُۥۖﲘﲙ
وَخَشَعَتِﲚ
ٱلۡأَصۡوَاتُﲛ
لِلرَّحۡمَٰنِﲜ
فَلَاﲝ
تَسۡمَعُﲞ
إِلَّاﲟ
هَمۡسٗاﲠ
١٠٨ﲡ
Pada hari itu mereka menurut seruan panggilan yang menyeru mereka dengan tidak dapat melencong dari menurutnya; dan diam khusyuklah segala suara kepada Allah yang melimpah-limpah rahmatNya sehingga engkau tidak mendengar melainkan bunyi yang amat perlahan.
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Renungan
Jawapan
Qiraat
Hadis
Anda sedang membaca tafsir untuk kumpulan ayat dari 20:99 hingga 20:108

قیامت میں موجودہ زمین ایک وسیع اور ہموار فرش کی مانند بنادی جائے گی۔ اس وقت یہاںنہ پہاڑوں کی بلندیاں ہوں گی اور نہ دریاؤں کی گہرائیاں۔ تمام انسان دوبارہ پیدا ہوکر اس زمین پر جمع کيے جائیں گے۔ دنیا میں خدا کی آواز خدا کے داعی کی زبان سے بلند ہوتی ہے تو لوگ اس کو نظر انداز کردیتے ہیں۔ مگر قیامت میں جب خدا براہِ راست لوگوں کو پکارے گا تو سارے انسان کسی ادنیٰ انحراف کے بغیر اس کی آواز کی طرف چل پڑیںگے۔ لوگوں پر اس قدر ہول طاری ہوگا کہ کسی کی زبان سے کوئی لفظ نہیں نکلے گا۔ لوگوں کے چلنے کی سرسراہٹ کے سوا کوئی اور آواز نہ ہوگی جو اس وقت لوگوں کو سنائی دے۔