Log masuk
Log masuk
Log masuk
Pilih Bahasa

Tazkir ul Quran Tafsir: Saad Ayah 75

38:75
قال يا ابليس ما منعك ان تسجد لما خلقت بيدي استكبرت ام كنت من العالين ٧٥
قَالَ يَـٰٓإِبْلِيسُ مَا مَنَعَكَ أَن تَسْجُدَ لِمَا خَلَقْتُ بِيَدَىَّ ۖ أَسْتَكْبَرْتَ أَمْ كُنتَ مِنَ ٱلْعَالِينَ ٧٥
قَالَﲫ
يَٰٓإِبۡلِيسُﲬ
مَاﲭ
مَنَعَكَﲮ
أَنﲯ
تَسۡجُدَﲰ
لِمَاﲱ
خَلَقۡتُﲲ
بِيَدَيَّۖﲳﲴ
أَسۡتَكۡبَرۡتَﲵ
أَمۡﲶ
كُنتَﲷ
مِنَﲸ
ٱلۡعَالِينَﲹ
٧٥ﲺ
Allah berfirman: " Hai lblis! Apa yang menghalangmu daripada turut sujud kepada (Adam) yang Aku telah ciptakan dengan kekuasaanKu? Adakah engkau berlaku sombong takbur, ataupun engkau dari golongan yang tertinggi? "
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Renungan
Jawapan
Qiraat
Hadis
Anda sedang membaca tafsir untuk kumpulan ayat dari 38:71 hingga 38:78

اللہ تعالیٰ نے انسان کو ایک انتہائی اعلیٰ مخلوق کی حیثیت سے بنایا۔ اور اس کی علامت کے طور پر فرشتوں اور جنوں کو حکم دیاکہ وہ اس کو سجدہ کریں۔ اس کے بعد جب ایسا ہوا کہ ابلیس نے آدم کو سجدہ نہیں کیا تو وہ ہمیشہ کےلیے ملعون قرار پاگیا۔ مگر اس سنگین واقعہ کی اہمیت صرف ابلیس کے اعتبار سے نہ تھی بلکہ خود آدم کےلیے بھی اس کی بے حد اہمیت تھی۔

آدم کے آگے جھکنے سے انکار کرکے ابلیس ابدی طور پر نسلِ آدم کا حریف بن گیا۔ اس طرح انسانی تاریخ اول روز سے ایک نئے رخ پر چل پڑی۔ اس واقعہ نے طے کر دیا کہ انسان کےلیے زندگی کا سفر کوئی سادہ سفر نہیں ہوگا بلکہ شدید مزاحمت کا سفر ہوگا۔ اس کو ابلیس کے بہکاؤں اور اس کی پرفریب تدبیروں کا مقابلہ کرتے ہوئے اپنے آپ کو صحیح راستہ پر قائم رکھنا ہوگا تاکہ وہ سلامتی کے ساتھ اپنی منزل تک پہنچ سکے۔

انسان اور جنت کے درمیان شیطان کی فریب کاریاں حائل ہیں۔ جو شخص شیطان کی فریب کاریوں سے اپنے آپ کو بچائے وہی جنت کے ابدی باغوں میں داخل ہوگا۔ اور جو لوگ شیطان کی فریب کاریوں کا پردہ پھاڑنے میں ناکام رہیں وہی وہ لوگ ہیں جو جنت سے محروم رہ گئے۔