Log masuk
Log masuk
Log masuk
Pilih Bahasa

Bayan ul Quran Tafsir: Saad Ayah 69

38:69
ما كان لي من علم بالملا الاعلى اذ يختصمون ٦٩
مَا كَانَ لِىَ مِنْ عِلْمٍۭ بِٱلْمَلَإِ ٱلْأَعْلَىٰٓ إِذْ يَخْتَصِمُونَ ٦٩
مَاﱸ
كَانَﱹ
لِيَﱺ
مِنۡﱻ
عِلۡمِۭﱼ
بِٱلۡمَلَإِﱽ
ٱلۡأَعۡلَىٰٓﱾ
إِذۡﱿ
يَخۡتَصِمُونَﲀ
٦٩ﲁ
" Tiadalah bagiku sebarang pengetahuan tentang penduduk alam yang tinggi (malaikat), semasa mereka bersoal jawab (mengenai Nabi Adam-kalaulah tidak diwahyukan kepadaku).
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Renungan
Jawapan
Qiraat
Hadis

آیت 69 { مَا کَانَ لِیَ مِنْ عِلْمٍم بِالْمَلَاِ الْاَعْلٰٓی اِذْ یَخْتَصِمُوْنَ } ”مجھے کچھ علم نہیں ملااعلیٰ کے بارے میں ‘ جب وہ باہم بحث و تکرار کر رہے ہوتے ہیں۔“ یہ مضمون سورة الزمر کی آخری آیت میں بھی آئے گا۔ فرشتے چونکہ عاقل ہستیاں ہیں اس لیے تکوینی امور پر تبصرہ کرتے ہوئے وہ اپنی اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں۔ مثلاً ممکن ہے کسی وقت کوئی فرشتہ کسی ملک یا قوم کے بارے میں کہتا ہو کہ اب تو ان لوگوں پر عذاب آجانا چاہیے اور اس کے جواب میں کوئی دوسرا کہتا ہو کہ نہیں ابھی انہیں کچھ مزید مہلت ملنی چاہیے۔ آخری فیصلہ تو ہر کام میں اللہ تعالیٰ ہی کا ہوتا ہے ‘ لیکن فرشتے بھی مختلف امور کے بارے میں باہم گفتگو کرتے ہیں اور اس طرح ان کی آراء میں کبھی کبھی اختلاف بھی ہوجاتا ہے۔