Log masuk
Log masuk
Log masuk
Pilih Bahasa
38:60
قالوا بل انتم لا مرحبا بكم انتم قدمتموه لنا فبيس القرار ٦٠
قَالُوا۟ بَلْ أَنتُمْ لَا مَرْحَبًۢا بِكُمْ ۖ أَنتُمْ قَدَّمْتُمُوهُ لَنَا ۖ فَبِئْسَ ٱلْقَرَارُ ٦٠
قَالُواْ
بَلۡ
أَنتُمۡ
لَا
مَرۡحَبَۢا
بِكُمۡۖ
أَنتُمۡ
قَدَّمۡتُمُوهُ
لَنَاۖ
فَبِئۡسَ
ٱلۡقَرَارُ
٦٠
pengikut-pengikut mereka menjawab: " Bahkan kamulah yang tidak perlu dialu-alukan, kerana kamulah yang membawa azab sengsara ini kepada kami, maka amatlah buruknya neraka ini sebagai tempat penetapan ".
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Renungan
Jawapan
Qiraat
Hadis
Anda sedang membaca tafsir untuk kumpulan ayat dari 38:55 hingga 38:64

جہنم ان تکلیفوں کی ابدی اورانتہائی شکل ہے جن کا موجودہ دنیا میں کوئی شخص تصور کرسکتاہے۔ دنیا میں سرکشی کرنے والے اور سچائی کو جھٹلانے والے لوگ جب جہنم میں اكٹھاہوں گے تو ان کے لیڈر اور پیرو كار آپس میں تکرار کریں گے۔ وہ پیرو كار جو اپنے لیڈروں کی عظمت پر فخر کرتے تھے وہ وہاں اپنا انجام دیکھ کر ان پر لعنت بھیجیں گے۔ اس کا ایک نقشہ ان آیات میں دکھایا گیا ہے۔

سچائی کا انکار کرنے والے جب آخرت میں اپنا برا انجام دیکھیں گے تو وہاں وہ ان لوگوں کو یاد کریں گے جنھوں نے سچائی کا ساتھ دیا تھا اور اس بنا پر وہ اپنے ماحول میں حقیر بن گئے تھے۔ ان کے متعلق منکرین کہتے تھے کہ یہ اکابر کی توہین کرنے والے ہیں۔ یہ آبائی دین سے منحرف ہوگئے ہیں۔ انھوںنے ملت سے الگ اپنا راستہ بنایا ہے۔یہ منکرین اپنے آپ کو حق پر سمجھتے تھے اور ان کو ناحق پر۔ مگر آخرت میں معاملہ بالکل برعکس ہوجائے گا۔ اس وقت ان پر کھلے گا کہ جن کو حقیر سمجھ کر وہ ان کا مذاق اڑاتے تھے، وہی آخرت کی سرفرازی میں سب سے آگے درجہ پائے ہوئے ہیں۔