Log masuk
Log masuk
Log masuk
Pilih Bahasa

Bayan ul Quran Tafsir: Saad Ayah 50

38:50
جنات عدن مفتحة لهم الابواب ٥٠
جَنَّـٰتِ عَدْنٍۢ مُّفَتَّحَةًۭ لَّهُمُ ٱلْأَبْوَٰبُ ٥٠
جَنَّٰتِﲄ
عَدۡنٖﲅ
مُّفَتَّحَةٗﲆ
لَّهُمُﲇ
ٱلۡأَبۡوَٰبُﲈ
٥٠ﲉ
Iaitu beberapa buah Syurga tempat penginapan yang kekal, yang terbuka pintu-pintunya untuk mereka;
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Renungan
Jawapan
Qiraat
Hadis

آیت 50 { جَنّٰتِ عَدْنٍ مُّفَتَّحَۃً لَّہُمُ الْاَبْوَابُ } ”یعنی رہنے والے باغات جن کے دروازے ان کے لیے کھلے رکھے جائیں گے۔“ اہل ِجنت کے لیے جنت کے دروازے کھلے رکھے جانے کا ذکر سورة الزمر کے آخری رکوع میں بھی آیا ہے ‘ بلکہ وہاں اس حوالے سے اہل جنت اور اہل جہنم کے استقبال کا فرق اس طرح واضح کیا گیا ہے کہ اہل جنت کے لیے تو جنت کے دروازے پہلے سے ہی کھلے ہوں گے۔ جیسے کسی مہمان کا انتظار کھلے دروازوں کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ یعنی جس مہمان کا باقاعدہ انتظار ہو اس کے لیے یوں نہیں ہوتا کہ پہلے دروازہ بند ہو اور اس کے آنے پر ہی اسے کھولا جائے۔ چناچہ جنتی مہمانوں کے لیے جنت کے دروازوں کو پہلے سے ہی کھول کر رکھا جائے گا۔ اس کے برعکس اہل جہنم کو ہانک کر جب جہنم کے دروازے پر لے جایا جائے گا تب دروازوں کو کھولا جائے گا۔ یہ اس لیے کہ جہنم کی مثال جیل کی سی ہے اور جیل کے دروازوں کو معمول کے مطابق بند رکھا جاتا ہے۔ البتہ جب کوئی نیا مجرم آتا سے تو اسے داخل کرنے کے لیے اس کے کھولنے کا خصوصی اہتمام کیا جاتا ہے۔