Log masuk
Log masuk
Log masuk
Pilih Bahasa

Bayan ul Quran Tafsir: Saad Ayah 44

38:44
وخذ بيدك ضغثا فاضرب به ولا تحنث انا وجدناه صابرا نعم العبد انه اواب ٤٤
وَخُذْ بِيَدِكَ ضِغْثًۭا فَٱضْرِب بِّهِۦ وَلَا تَحْنَثْ ۗ إِنَّا وَجَدْنَـٰهُ صَابِرًۭا ۚ نِّعْمَ ٱلْعَبْدُ ۖ إِنَّهُۥٓ أَوَّابٌۭ ٤٤
وَخُذۡﱌ
بِيَدِكَﱍ
ضِغۡثٗاﱎ
فَٱضۡرِبﱏ
بِّهِۦﱐ
وَلَاﱑ
تَحۡنَثۡۗﱒﱓ
إِنَّاﱔ
وَجَدۡنَٰهُﱕ
صَابِرٗاۚﱖﱗ
نِّعۡمَﱘ
ٱلۡعَبۡدُﱙ
إِنَّهُۥٓﱚ
أَوَّابٞﱛ
٤٤ﱜ
Dan (Kami perintahkan lagi kepadanya): " Ambilah dengan tanganmu seikat jerami kemudian pukulah (isterimu) dengannya; dan janganlah engkau merosakkan sumpahmu itu ". Sesungguhnya Kami mendapati Nabi Ayub itu seorang yang sabar; ia adalah sebaik-baik hamba; sesungguhnya ia sentiasa rujuk kembali (kepada Kami dengan ibadatnya).
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Renungan
Jawapan
Qiraat
Hadis

آیت 44 { وَخُذْ بِیَدِکَ ضِغْثًا فَاضْرِبْ بِّہٖ وَلَا تَحْنَثْ } ”اور تم لے لو اپنے ہاتھ میں تنکوں کا ایک ُ مٹھا ‘ تو اس سے ایک ضرب لگا دو ‘ اور قسم نہ توڑو !“ حضرت ایوب علیہ السلام کسی موقع پر اپنی بیوی سے ناراض ہوئے تو آپ علیہ السلام نے غصے میں قسم کھالی کہ آپ علیہ السلام انہیں سو کوڑے ماریں گے۔ اب جب کہ آپ علیہ السلام صحت مند ہوگئے تو آپ علیہ السلام فکر مند تھے کہ اب قسم پوری کرنے کی کیا ترکیب کریں۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کی راہنمائی کرتے ہوئے ایک طریقہ بتادیا کہ آپ علیہ السلام سو تنکے لے کر ان کو باندھ کر ایک جھاڑو سا بنا لیں اور اس سے اپنی بیوی کو ایک ضرب لگا دیں۔ اس طرح آپ علیہ السلام کی قسم پوری ہوجائے گی اور آپ علیہ السلام کی اہلیہ کو تکلیف بھی نہیں ہوگی۔ { اِنَّا وَجَدْنٰـہُ صَابِرًاط نِعْمَ الْعَبْدُط اِنَّہٗٓ اَوَّابٌ} ”یقینا ہم نے اسے صابر پایا ‘ بہت ہی خوب بندہ۔ یقینا وہ ہماری طرف بڑا ہی رجوع کرنے والا تھا۔“