Log masuk
Log masuk
Log masuk
Pilih Bahasa

Bayan ul Quran Tafsir: Saad Ayah 3

38:3
كم اهلكنا من قبلهم من قرن فنادوا ولات حين مناص ٣
كَمْ أَهْلَكْنَا مِن قَبْلِهِم مِّن قَرْنٍۢ فَنَادَوا۟ وَّلَاتَ حِينَ مَنَاصٍۢ ٣
كَمۡﱎ
أَهۡلَكۡنَاﱏ
مِنﱐ
قَبۡلِهِمﱑ
مِّنﱒ
قَرۡنٖﱓ
فَنَادَواْﱔ
وَّلَاتَﱕ
حِينَﱖ
مَنَاصٖﱗ
٣ﱘ
(Tidakkah mereka menyedari) berapa banyak umat-umat (yang ingkar) yang terdahulu dari mereka, Kami binasakan? Lalu mereka meminta pertolongan, padahal saat itu bukanlah saat meminta pertolongan melepaskan diri dari azab.
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Renungan
Jawapan
Qiraat
Hadis

آیت 3 { کَمْ اَہْلَکْنَا مِنْ قَبْلِہِمْ مِّنْ قَرْنٍ } ”کتنی ہی قوموں کو ہم نے ان سے پہلے ہلاک کیا ہے“ { فَنَادَوْا وَّلَاتَ حِیْنَ مَنَاصٍ } ”تو عذابِ الٰہی کے وقت وہ لگے چیخنے ِچلانے ‘ حالانکہ تب خلاصی کا وقت نہیں رہا تھا۔“ اللہ تعالیٰ کے قاعدے اور قانون کے مطابق کسی شخص کی موت کے آثار ظاہر ہونے کے بعد اس کے لیے توبہ کا دروازہ بند ہوجاتا ہے۔ اسی طرح جب کسی قوم پر عذاب کے آثار ظاہر ہوجائیں تو اس وقت ان لوگوں کی اجتماعی توبہ انہیں کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتی۔ اس قانون سے پوری انسانی تاریخ میں صرف قوم یونس علیہ السلام کو استثناء ملا تھا ‘ جس کا ذکر سورة یونس کی آیت 98 میں آیا ہے۔