Log masuk
Log masuk
Log masuk
Pilih Bahasa

Tazkir ul Quran Tafsir: Saad Ayah 23

38:23
ان هاذا اخي له تسع وتسعون نعجة ولي نعجة واحدة فقال اكفلنيها وعزني في الخطاب ٢٣
إِنَّ هَـٰذَآ أَخِى لَهُۥ تِسْعٌۭ وَتِسْعُونَ نَعْجَةًۭ وَلِىَ نَعْجَةٌۭ وَٰحِدَةٌۭ فَقَالَ أَكْفِلْنِيهَا وَعَزَّنِى فِى ٱلْخِطَابِ ٢٣
إِنَّﲇ
هَٰذَآﲈ
أَخِيﲉ
لَهُۥﲊ
تِسۡعٞﲋ
وَتِسۡعُونَﲌ
نَعۡجَةٗﲍ
وَلِيَﲎ
نَعۡجَةٞﲏ
وَٰحِدَةٞﲐ
فَقَالَﲑ
أَكۡفِلۡنِيهَاﲒ
وَعَزَّنِيﲓ
فِيﲔ
ٱلۡخِطَابِﲕ
٢٣ﲖ
" Sebenarnya orang ini ialah (seorang sahabat sebagai) saudaraku; ia mempunyai sembilan puluh sembilan ekor kambing betina dan aku mempunyai seekor sahaja; dalam pada itu ia (mendesakku dengan) berkata: ' Serahkanlah yang seekor itu kepadaku ', dan dia telah mengalahkan daku dalam merundingkan perkara itu".
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Renungan
Jawapan
Qiraat
Hadis
Anda sedang membaca tafsir untuk kumpulan ayat dari 38:23 hingga 38:25

آنے والے دونوں آدمیوں نے جو مقدمہ پیش کیا وہ کوئی حقیقی مقدمہ نہ تھا بلکہ تمثیل کی زبان میں خودحضرت داؤد علیہ السلام کی کسی بات پر انھیں متنبہ کرنا تھا۔ چنانچہ مقدمہ کا فیصلہ دیتے دیتے آپ کو اپنا وہ معاملہ یاد آگیا جو مذکورہ مثال سے ملتا جلتا تھا۔ آپ نے فوراً اس سے رجوع کرلیا اور اللہ کے آگے سجدہ میں گر پڑے۔

حضرت داؤد کو اس وقت زبردست اقتدار حاصل تھا۔ مگر انھوں نے آنے والوں کو نہ تو کوئی سزا دی اور نہ انھیں برا بھلا کہا۔یہی اللہ کے سچے بندوں کا طریقہ ہے۔ ان کے اندر کسی معاملہ میں ضد نہیں ہوتی۔ انھیں جب ان کی کسی خامی کی طرف توجہ دلائی جائے تو وہ فوراً اس کو مان کر اپنی اصلاح کرلیتے ہیں، خواہ وہ بااقتدار حیثیت کے مالک ہوں اور خواہ متوجہ کرنے والے نے انھیں بے ڈھنگے طریقہ سے متوجہ کیا ہو۔