Log masuk
Log masuk
Log masuk
Pilih Bahasa

Tafsir: Saba' 34:9

34:9
افلم يروا الى ما بين ايديهم وما خلفهم من السماء والارض ان نشا نخسف بهم الارض او نسقط عليهم كسفا من السماء ان في ذالك لاية لكل عبد منيب ٩
أَفَلَمْ يَرَوْا۟ إِلَىٰ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُم مِّنَ ٱلسَّمَآءِ وَٱلْأَرْضِ ۚ إِن نَّشَأْ نَخْسِفْ بِهِمُ ٱلْأَرْضَ أَوْ نُسْقِطْ عَلَيْهِمْ كِسَفًۭا مِّنَ ٱلسَّمَآءِ ۚ إِنَّ فِى ذَٰلِكَ لَـَٔايَةًۭ لِّكُلِّ عَبْدٍۢ مُّنِيبٍۢ ٩
أَفَلَمۡ
يَرَوۡاْ
إِلَىٰ
مَا
بَيۡنَ
أَيۡدِيهِمۡ
وَمَا
خَلۡفَهُم
مِّنَ
ٱلسَّمَآءِ
وَٱلۡأَرۡضِۚ
إِن
نَّشَأۡ
نَخۡسِفۡ
بِهِمُ
ٱلۡأَرۡضَ
أَوۡ
نُسۡقِطۡ
عَلَيۡهِمۡ
كِسَفٗا
مِّنَ
ٱلسَّمَآءِۚ
إِنَّ
فِي
ذَٰلِكَ
لَأٓيَةٗ
لِّكُلِّ
عَبۡدٖ
مُّنِيبٖ
٩
(Setelah mereka mengejek-ejek dan membuat tuduhan-tuduhan itu) tidakkah mereka melihat apa yang ada di hadapan mereka dan yang ada di belakang mereka dari langit dan bumi (dapatkah mereka melarikan diri)? Jika Kami kehendaki nescaya Kami timbuskan mereka di bumi, atau Kami gugurkan atas mereka ketul-ketul dan serpihan-serpihan dari langit (yang akan membinasakan mereka). Sesungguhnya yang demikian mengandungi satu tanda (yang memberi keinsafan) bagi tiap-tiap hamba Allah yang mahu kembali kepadanya (dengan taat dan berbakti).
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Renungan
Jawapan
Qiraat
Hadis

افلم یروا الی ۔۔۔۔۔۔ لکل عبد منیب (9) ” “۔

یہ ایک سخت ڈراؤنا کائناتی منظر ہے۔ یہ منظر ان کے مشاہدات سے ماخوذ ہے جن کو وہ رات اور دن دیکھتے رہتے ہیں۔ زمین کا دھنس جانا بھی انسانی مشاہدہ ہے اور قصص اور روایات میں بھی آتا ہے۔ اسی طرح شہاب ثاقب کے گرنے اور بجلیوں کے گرنے سے بھی آسمانی چیزیں گرتی رہی ہیں۔ یہ سب چیزیں ان کو دیکھی سنی ہیں۔ اس قدر خوفناک حالات کی طرف ان کو متوجہ کرکے ڈرایا جاتا ہے جو قیام قیامت کا انکار کرتے ہیں۔ اگر قیام قیامت سے پہلے ہی اللہ ان کو عذاب دینا چاہئے تو یہ کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ اسی زمین اور اسی آسمان میں ان کو یہ عذاب دے دیا جائے جو ان کے آگے پیچھے ان کو گھیرے ہوئے ہے اور یہ ان سے دور بھی نہیں ہے جس طرح قیام قیامت انکو بعید نظر آتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ کے عذاب سے تو غافل لوگ ہی بےفکر ہوتے ہیں

یہ آسمانوں کے اندر جو عملیات وہ دیکھتے ہیں ، بجلیاں اور شہاب ثاقب اور زمین کا دھنس جانا اور زلزلے۔ کسی وقت بھی ان میں سے کوئی عذاب اگر آجائے تو قیامت ہی ہوگی۔

ان فی ذلک لایۃ لکل عبد منیب (34: 9) ” حقیقت یہ ہے کہ اس میں نشانی ہے ہر اس بندے کے لیے جو خدا کی طرف رجوع کرنے والا ہو “۔ اور جو غلط راہ پر اس قدر دور نہ چلا گیا ہو۔