Log masuk
Log masuk
Log masuk
Pilih Bahasa

Tafsir: Saba' 34:15

34:15
لقد كان لسبا في مسكنهم اية جنتان عن يمين وشمال كلوا من رزق ربكم واشكروا له بلدة طيبة ورب غفور ١٥
لَقَدْ كَانَ لِسَبَإٍۢ فِى مَسْكَنِهِمْ ءَايَةٌۭ ۖ جَنَّتَانِ عَن يَمِينٍۢ وَشِمَالٍۢ ۖ كُلُوا۟ مِن رِّزْقِ رَبِّكُمْ وَٱشْكُرُوا۟ لَهُۥ ۚ بَلْدَةٌۭ طَيِّبَةٌۭ وَرَبٌّ غَفُورٌۭ ١٥
لَقَدۡ
كَانَ
لِسَبَإٖ
فِي
مَسۡكَنِهِمۡ
ءَايَةٞۖ
جَنَّتَانِ
عَن
يَمِينٖ
وَشِمَالٖۖ
كُلُواْ
مِن
رِّزۡقِ
رَبِّكُمۡ
وَٱشۡكُرُواْ
لَهُۥۚ
بَلۡدَةٞ
طَيِّبَةٞ
وَرَبٌّ
غَفُورٞ
١٥
Demi sesungguhnya, adalah bagi penduduk negeri Saba', satu tanda (yang membuktikan kemurahan Allah) yang terdapat di tempat tinggal mereka, iaitu: dua kumpulan kebun (yang luas lagi subur), yang terletak di sebelah kanan dan di sebelah kiri (kampung mereka). (Lalu dikatakan kepada mereka): "Makanlah dari rezeki pemberian Tuhan kamu dan bersyukurlah kepadaNya; (negeri kamu ini adalah) negeri yang baik (aman dan makmur), dan (Tuhan kamu adalah) Tuhan yang Maha Pengampun!.
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Renungan
Jawapan
Qiraat
Hadis

لقد کان لسبا۔۔۔۔۔ ورب غفور (15)

سبا اس قوم کا نام ہے جو جنوب یمن میں رہتی تھی۔ ان کی زمین تروتازہ تھی۔ اس کا ایک حصہ آج بھی اسی حالت میں موجود ہے۔ یہ اس قدر ترقی یافتہ تھے کہ مشرق اور جنوب سے آنے والی بارشوں کے پانی کا انہوں نے ذخیرہ بنا لیا تھا۔ ایک ایسا ڈیم بنایا تھا جس کے دونوں جانب قدرتی پہاڑ تھے۔ پہاڑوں کے درمیان تنگ جگہ پر انہوں نے ڈیم بنا لیا تھا ، جس میں سے چشمے اور نہریں نکلتی تھیں۔ ان کا پانی وہ حسب ضرورت بند کرتے تھے اور کھولتے تھے۔ انہوں نے پانی کی بہت ہی بڑی مقدار کو جمع کرلیا تھا اور ذخیرے پر انہیں کنڑول حاصل تھا۔ چناچہ یہ ان کے لئے ایک وسیع ذریعہ آبپاشی تھا۔ اسے یہ لوگ سد مارب کہتے تھے۔

اس ڈیم کے دائیں اور بائیں جانب کی نہروں کے تحت باغات تھے۔ یعنی پورا علاقہ سرسبز اور شاداب تھا ، حسین و جمیل تھا اور یہ نشانی تھی ، رب کریم کی انعامات کی۔ ان کو حکم دیا گیا تھا کہ وہ رب غفور کا شکر ادا کریں ان نعمتوں پر۔

کلوا من رزق ربکم واشکروالہ (34: 15) ” کھاؤ اپنے رب کا رزق اور شکر بجا لاؤ اس کا “۔ ان کو یہ نصیحت کی گئی کہ اللہ کی نعمتوں پر غور کرو ، جس نے تمہیں یہ خوبصورت علاقہ دیا۔ اور اس میں ہر قسم کی پیداوار دی اور پھر تم سے جو تقصیرات سرزد ہوئیں وہ بھی معاف کی گئیں۔

بلدۃ طیبہ و رب غفور (34: 15) ” ملک عمدہ اور پروردگار بخشش کرنے والا “۔ زمین عمدہ ، پیداوار والی ، اور نعمتوں اور آسانیوں والی اور آسمانوں کی بادشاہت معاف کرنے والی۔ سوال یہ ہے کہ زمین ہر قدم کا پھل دینے والی ہے اور اللہ غفور الرحیم ہے تو پھر شکر ادا نہ کرنے اور اللہ کی حمد نہ کرنے کا جواز کیا ہے ؟ لیکن اس کے باوجود انہوں نے شکر ادا نہ کیا۔