Log masuk
Log masuk
Log masuk
Pilih Bahasa

Tafsir: Maryam 19:11

19:11
فخرج على قومه من المحراب فاوحى اليهم ان سبحوا بكرة وعشيا ١١
فَخَرَجَ عَلَىٰ قَوْمِهِۦ مِنَ ٱلْمِحْرَابِ فَأَوْحَىٰٓ إِلَيْهِمْ أَن سَبِّحُوا۟ بُكْرَةًۭ وَعَشِيًّۭا ١١
فَخَرَجَ
عَلَىٰ
قَوۡمِهِۦ
مِنَ
ٱلۡمِحۡرَابِ
فَأَوۡحَىٰٓ
إِلَيۡهِمۡ
أَن
سَبِّحُواْ
بُكۡرَةٗ
وَعَشِيّٗا
١١
Maka dia pun keluar mendapatkan kaumnya dari Mihrab (tempat sembahyangnya), lalu ia memberi isyarat kepada mereka: "Hendaklah kamu bertasbih (mengerjakan ibadat kepada Allah) pagi dan petang".
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Renungan
Jawapan
Qiraat
Hadis
Anda sedang membaca tafsir untuk kumpulan ayat dari 19:10 hingga 19:11
تشفی قلب کے لیے ایک اور مانگ ٭٭

حضرت زکریا علیہ السلام اپنے مزیداطمینان اور تشفی قلب کے لیے اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ ”اس بات پر کوئی نشان ظاہر فرما۔‏“ جیسے کہ خلیل اللہ علیہ السلام نے مردوں کے جی اٹھنے کے دیکھنے کی تمنا اسی لیے ظاہر فرمائی تھی «رَبِّ أَرِنِي كَيْفَ تُحْيِي الْمَوْتَىٰ قَالَ أَوَلَمْ تُؤْمِن قَالَ بَلَىٰ وَلَـٰكِن لِّيَطْمَئِنَّ قَلْبِي» [2-البقرہ:260] ‏ تو ارشاد ہوا کہ ” تو گونگا نہ ہوگا بیمار نہ ہوگا لیکن تیری زبان لوگوں سے باتیں نہ کرسکے گی تین دن رات تک یہی حالت رہے گی “۔ یہی ہوا بھی کہ تسبیح، استغفار، حمد و ثنا وغیرہ پر تو زبان چلتی تھی لیکن لوگوں سے بات نہ کر سکتے تھے۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ «سَوِيًّا» کے معنی پے در پے کے ہیں یعنی مسلسل برابر تین شبانہ روز تمہاری زبان دنیوی باتوں سے رکی رہے گی۔ پہلا قول بھی آپ رضی اللہ عنہ ہی سے مروی ہے اور جمہور کی تفسیر بھی یہی ہے اور یہی زیادہ صحیح ہے۔

چنانچہ سورۃ آل عمران میں اس کا بیان بھی گزر چکا ہے کہ «قَالَ رَبِّ اجْعَل لِّي آيَةً قَالَ آيَتُكَ أَلَّا تُكَلِّمَ النَّاسَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ إِلَّا رَمْزًا وَاذْكُر رَّبَّكَ كَثِيرًا وَسَبِّحْ بِالْعَشِيِّ وَالْإِبْكَارِ» [3-آل عمران:41] ‏ علامت طلب کرنے پر فرمان ہوا کہ ” تین دن تک تم صرف اشاروں کنایوں سے لوگوں سے باتیں کر سکتے ہو۔ ہاں اپنے رب کی یاد بکثرت کرو اور صبح شام اس کی پاکیزگی بیان کرو “۔

پس ان تین دن رات میں آپ علیہ السلام کسی انسان سے کوئی بات نہیں کر سکتے تھے ہاں اشاروں سے اپنا مطلب سمجھا دیا کرتے تھے لیکن یہ نہیں کہ آپ علیہ السلام گونگے ہوگئے ہوں۔ اب آپ علیہ السلام اپنے حجرے سے، جہاں جا کر تنہائی میں اپنے ہاں اولاد ہونے کی دعا کی تھی، باہر آئے اور جو نعمت اللہ نے آپ علیہ السلام پر انعام کی تھی اور جس تسبیح و ذکر کا آپ علیہ السلام کو حکم ہوا تھا، وہی قوم کو بھی حکم دیا لیکن چونکہ بول نہ سکتے تھے، اس لیے انہیں اشاروں سے سمجھایا یا زمین پر لکھ کر انہیں سمجھا دیا۔

صفحہ نمبر5032