Log masuk
Log masuk
Log masuk
Pilih Bahasa

Tafsir: Luqman 31:29

31:29
الم تر ان الله يولج الليل في النهار ويولج النهار في الليل وسخر الشمس والقمر كل يجري الى اجل مسمى وان الله بما تعملون خبير ٢٩
أَلَمْ تَرَ أَنَّ ٱللَّهَ يُولِجُ ٱلَّيْلَ فِى ٱلنَّهَارِ وَيُولِجُ ٱلنَّهَارَ فِى ٱلَّيْلِ وَسَخَّرَ ٱلشَّمْسَ وَٱلْقَمَرَ كُلٌّۭ يَجْرِىٓ إِلَىٰٓ أَجَلٍۢ مُّسَمًّۭى وَأَنَّ ٱللَّهَ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌۭ ٢٩
أَلَمۡ
تَرَ
أَنَّ
ٱللَّهَ
يُولِجُ
ٱلَّيۡلَ
فِي
ٱلنَّهَارِ
وَيُولِجُ
ٱلنَّهَارَ
فِي
ٱلَّيۡلِ
وَسَخَّرَ
ٱلشَّمۡسَ
وَٱلۡقَمَرَۖ
كُلّٞ
يَجۡرِيٓ
إِلَىٰٓ
أَجَلٖ
مُّسَمّٗى
وَأَنَّ
ٱللَّهَ
بِمَا
تَعۡمَلُونَ
خَبِيرٞ
٢٩
Tidakkah engkau memerhatikan bahawa Allah memasukkan malam pada siang dan memasukkan siang pada malam (silih berganti), dan Ia memudahkan matahari dan bulan (untuk faedah makhluk-makhlukNya)? Tiap-tiap satu dari keduanya beredar untuk suatu masa yang telah ditetapkan. Dan (ingatlah) sesungguhnya Allah Maha Mengetahui dengan mendalam akan apa yang kamu lakukan.
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Renungan
Jawapan
Qiraat
Hadis
Anda sedang membaca tafsir untuk kumpulan ayat dari 31:29 hingga 31:30
اس کے سامنے پر چیز حقیر و پست ہے ٭٭

رات کو کچھ گھٹا کر دن کو کچھ بڑھانے والا اور دن کو کچھ گھٹاکر رات کو کچھ بڑھانے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ جاڑوں کے دن چھوٹے اور راتیں بڑی، گرمیوں کے دن بڑے اور راتیں چھوٹی اسی کی قدرت کا ظہور ہے سورج چاند اسی کے تحت فرمان ہیں۔ جو جگہ مقرر ہے وہیں چلتے ہیں قیامت تک برابر اسی چال چلتے رہیں گے اپنی جگہ سے ادھر ادھر نہیں ہو سکتے۔

صفحہ نمبر6887

بخاری و مسلم میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ جانتے ہو یہ سورج کہاں جاتا ہے؟ جواب دیا کہ ”اللہ اور اس کے رسول خوب جانتے ہیں“، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ جا کر اللہ کے عرش کے نیچے سجدے میں گر پڑتا ہے اور اپنے رب سے اجازت چاہتا ہے قریب ہے کہ ایک دن اس سے کہہ دیا جائے کہ جہاں سے آیا ہے وہیں لوٹ جا ۔ [صحیح بخاری:3199] ‏

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے کہ ”سورج بمنزلہ ساقیہ کے ہے دن کو اپنے دوران میں جاری رہتا ہے غروب ہو کر رات کو پھر زمین کے نیچے گردش میں رہتا ہے یہاں تک کہ اپنی مشرق سے ہی طلوع ہوتا ہے۔ اسی طرح چاند بھی۔‏“

” اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال سے خبردار ہے “ جیسے فرمان ہے «أَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ مَا فِي السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ» [22-الحج:70] ‏ ” کیا تو نہیں جانتا کہ زمین آسمان میں جو کچھ ہے سب اللہ کے علم میں ہے سب کا خالق سب کا عالم اللہ ہی ہے“۔

جیسے ارشاد ہے «اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ وَمِنَ الْأَرْضِ مِثْلَهُنَّ يَتَنَزَّلُ الْأَمْرُ بَيْنَهُنَّ لِتَعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ وَأَنَّ اللَّهَ قَدْ أَحَاطَ بِكُلِّ شَيْءٍ عِلْمًا» [65-الطلاق:12] ‏” اللہ نے سات آسمان پیدا کئے اور انہی کے مثل زمینیں بنائیں “۔

” یہ نشانیاں پروردگار عالم اس لیے ظاہر فرماتا ہے کہ تم ان سے اللہ کے حق وجود پر ایمان لاؤ اور اس کے سوا سب کو باطل مانو “۔ وہ سب سے بے نیاز اور بے پرواہ ہے سب کے سب اس کے محتاج اور اس کے در کے فقیر ہیں۔ سب اس کی مخلوق اور اس کے غلام ہیں۔ کسی کو ایک ذرے کے حرکت میں لانے کی قدرت نہیں۔ گو ساری مخلوق مل کر ارادہ کر لے کہ ایک مکھی پیدا کریں سب عاجز آ جائیں گے اور ہرگز اتنی قدرت بھی نہ پائیں گے۔ وہ سب سے بلند ہے جس پر کوئی چیز نہیں۔ وہ سب سے بڑا ہے جس کے سامنے کسی کی کوئی بڑائی نہیں۔ ہر چیز اس کے سامنے حقیر اور پست ہے۔

صفحہ نمبر6888