Log masuk
Log masuk
Log masuk
Pilih Bahasa

Tafsir: Ibrahim 14:36

14:36
رب انهن اضللن كثيرا من الناس فمن تبعني فانه مني ومن عصاني فانك غفور رحيم ٣٦
رَبِّ إِنَّهُنَّ أَضْلَلْنَ كَثِيرًۭا مِّنَ ٱلنَّاسِ ۖ فَمَن تَبِعَنِى فَإِنَّهُۥ مِنِّى ۖ وَمَنْ عَصَانِى فَإِنَّكَ غَفُورٌۭ رَّحِيمٌۭ ٣٦
رَبِّ
إِنَّهُنَّ
أَضۡلَلۡنَ
كَثِيرٗا
مِّنَ
ٱلنَّاسِۖ
فَمَن
تَبِعَنِي
فَإِنَّهُۥ
مِنِّيۖ
وَمَنۡ
عَصَانِي
فَإِنَّكَ
غَفُورٞ
رَّحِيمٞ
٣٦
Wahai Tuhanku, berhala-berhala itu telah menyebabkan sesat banyak di antara umat manusia. Oleh itu, sesiapa yang menurutku (dalam Islam yang menjadi peganganku) maka ia adalah dari golonganku; dan sesiapa yang menderhaka kepadaku (dengan menyalahi ugamaku), maka sesungguhnya engkau Maha Pengampun, lagi Maha Mengasihani (kiranya ia insaf dan bertaubat).
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Renungan
Jawapan
Qiraat
Hadis
Anda sedang membaca tafsir untuk kumpulan ayat dari 14:35 hingga 14:36
حرمت وعظمت کا مالک شہر ٭٭

اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ ” حرمت والا شہر مکہ ابتداء میں اللہ کی توحید پر ہی بنایا گیا تھا۔ اس کے اول بانی خلیل اللہ علیہ السلام اللہ کے سوا اوروں کی عبادت کرنے والوں سے بری تھے۔ انہی نے اس شہر کے با امن ہونے کی دعا کی تھی۔ جو اللہ تعالیٰ نے قبول فرمائی “۔

«أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّا جَعَلْنَا حَرَمًا آمِنًا وَيُتَخَطَّفُ النَّاسُ مِنْ حَوْلِهِمْ» [29-العنکبوت:67] ‏۔ «إِنَّ أَوَّلَ بَيْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِي بِبَكَّةَ مُبَارَكًا وَهُدًى لِّلْعَالَمِينَ» «فِيهِ آيَاتٌ بَيِّنَاتٌ مَّقَامُ إِبْرَاهِيمَ وَمَن دَخَلَهُ كَانَ آمِنًا» [3-آل عمران:96-97] ‏ ” سب سے پہلا با برکت اور با ہدایت اللہ کا گھر مکے شریف کا ہی ہے، جس میں بہت سی واضح نشانیوں کے علاوہ مقام ابراہیم بھی ہے۔ اس شہر میں جو پہنچ گیا، امن و امان میں آ گیا “۔

اس شہر کو بنانے کے بعد خلیل اللہ نے دعا کی کہ ”اے اللہ اس شہر کو پر امن بنا۔‏“ اسی لیے فرمایا کہ «الْحَمْدُ لِلَّـهِ الَّذِي وَهَبَ لِي عَلَى الْكِبَرِ إِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَاقَ» [14-ابراھیم:39] ‏ ” اللہ کا شکر ہے جس نے مجھے بڑھاپے میں اسماعیل و اسحاق جیسے بچے عطا فرمائے “۔

اسماعیل علیہ السلام کو دودھ پیتا اس کی والدہ کے ساتھ لے کر یہاں آئے تھے تب بھی آپ علیہ السلام نے اس شہر کے با امن ہونے کی دعا کی تھی لیکن اس وقت کے الفاظ یہ تھے «رَبِّ اجْعَلْ هٰذَا الْبَلَدَ اٰمِنًا» [2-البقرة:126] ‏۔ پس اس دعا میں «بَلَدَ» پر لام نہیں ہے، اس لیے کہ یہ دعا شہر کی آبادی سے پہلے کی ہے اور اب چونکہ شہر بس چکا تھا۔ «بلد» کو معرف بلام لائے۔ سورۃ البقرہ میں ہم ان چیزوں کو وضاحت و تفصیل کے ساتھ ذکر کر آئے ہیں۔

پھر دوسری دعا میں اپنی اولاد کو بھی شریک کیا۔ انسان کو لازم ہے کہ اپنی دعاؤں میں اپنے ماں باپ کو اور اولاد کو بھی شامل رکھے۔ پھر آپ علیہ السلام نے بتوں کی گمراہی ان کا فتنہ اکثر لوگوں کا بہکا جانا بیان فرما کر ان سے اپنی بیزاری کا اظہار کیا اور انہیں اللہ کے حوالے کیا کہ وہ چاہے بخشے، چاہے سزا دے۔ جیسے روح اللہ علیہ السلام بروز قیامت کہیں گے کیا اگر تو انہیں عذاب کرے تو یہ تیرے بندے ہیں اور اگر بخش دے تو تو عزیز و حکیم ہے۔ یہ یاد رہے کہ اس میں صرف اللہ کی مشیت اور اس کے ارادے کی طرف لوٹنا ہے نہ کہ اس کے واقع ہونے کو جائز سمجھنا ہے۔ حضور علیہ السلام نے خلیل اللہ کا یہ قول اور روح اللہ کا قول آیت «اِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَاِنَّهُمْ عِبَادُكَ وَاِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَاِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ» [5-المائدة:118] ‏، تلاوت کر کے رو رو کر اپنی امت کو یاد کیا تو اللہ تعالیٰ نے جبرائیل علیہ السلام کو حکم فرمایا کہ جا کر دریافت کرو کہ کیوں رو رہے ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سبب بیان کیا حکم ہوا کہ جاؤ اور کہہ دو کہ ” آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے بارے میں خوش کر دیں گے ناراض نہ کریں گے۔ [صحیح مسلم:202] ‏

صفحہ نمبر4251