Log masuk
Log masuk
Log masuk
Pilih Bahasa
11:99
واتبعوا في هاذه لعنة ويوم القيامة بيس الرفد المرفود ٩٩
وَأُتْبِعُوا۟ فِى هَـٰذِهِۦ لَعْنَةًۭ وَيَوْمَ ٱلْقِيَـٰمَةِ ۚ بِئْسَ ٱلرِّفْدُ ٱلْمَرْفُودُ ٩٩
وَأُتۡبِعُواْ
فِي
هَٰذِهِۦ
لَعۡنَةٗ
وَيَوۡمَ
ٱلۡقِيَٰمَةِۚ
بِئۡسَ
ٱلرِّفۡدُ
ٱلۡمَرۡفُودُ
٩٩
Dan mereka diiringi oleh laknat yang tidak putus-putus di dunia ini, dan pada hari kiamat. (Sebenarnya) laknat itu adalah seburuk-buruk pemberian yang diberikan.
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Renungan
Jawapan
Qiraat
Hadis
Anda sedang membaca tafsir untuk kumpulan ayat dari 11:96 hingga 11:99
قبطی قوم کا سردار فرعون اور موسیٰ علیہ السلام ٭٭

فرعون اور اس کی جماعت کی طرف اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول موسیٰ علیہ السلام کو اپنی آیتوں اور ظاہر دلیلوں کے ساتھ بھیجا «فَعَصَىٰ فِرْعَوْنُ الرَّسُولَ فَأَخَذْنَاهُ أَخْذًا وَبِيلًا» [73-المزمل:16] ‏ ” لیکن انہوں نے فرعون کی اطاعت نہ چھوڑی۔ اسی کی گمراہ روش پر اس کے پیچھے لگے رہے “۔ «فَكَذَّبَ وَعَصَىٰ ثُمَّ أَدْبَرَ يَسْعَىٰ فَحَشَرَ فَنَادَىٰ فَقَالَ أَنَا رَبُّكُمُ الْأَعْلَىٰ فَأَخَذَهُ اللَّـهُ نَكَالَ الْآخِرَةِ وَالْأُولَىٰ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَعِبْرَةً لِّمَن يَخْشَىٰ» [79-النازعات:21-26] ‏ ” جس طرح یہاں انہوں نے اس کی فرمان برداری ترک نہ کی اور اسے اپنا سردار مانتے رہے “۔ «وَقَالُوا رَبَّنَا إِنَّا أَطَعْنَا سَادَتَنَا وَكُبَرَاءَنَا فَأَضَلُّونَا السَّبِيلَا رَبَّنَا آتِهِمْ ضِعْفَيْنِ مِنَ الْعَذَابِ وَالْعَنْهُمْ لَعْنًا كَبِيرًا» [33-الأحزاب:67، 68] ‏ ” اسی طرح قیامت کے دن اسی کے پیچھے یہ ہوں گے اور وہ اپنی پیشوائی میں انہیں سب کو اپنے ساتھ ہی جہنم میں لے جائے گا اور خود دگنا عذاب برداشت کرے گا۔ یہی حال بروں کی تابعداری کرنے والوں کا ہوتا ہے وہ کہیں گے بھی کہ اللہ انہیں لوگوں نے ہمیں بہکایا تو انہوں دوگنا عذاب دے “۔

مسند میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ قیامت کے دن جاہلیت کے شاعروں کا جھنڈا امرؤ القیس کے ہاتھ میں ہو گا اور وہ انہیں لے کر جہنم کی طرف جائے گا ۔ [مسند احمد:228/2:ضعیف جدا] ‏

اس آگ کے عذاب پر یہ اور زیادتی ہے کہ یہاں اور وہاں دونوں جگہ یہ لوگ ابدی لعنت میں پڑے۔ قیامت کے دن کی لعنت مل کر ان پر دو دو لعنتیں پڑ گئیں۔ یہ اور لوگوں کو جہنم کی دعوت دینے والے امام تھے۔ اس لیے ان پر دوہری لعنت پڑی۔

صفحہ نمبر3912