Log masuk
Log masuk
Log masuk
Pilih Bahasa

Tafsir: Hud 11:60

11:60
واتبعوا في هاذه الدنيا لعنة ويوم القيامة الا ان عادا كفروا ربهم الا بعدا لعاد قوم هود ٦٠
وَأُتْبِعُوا۟ فِى هَـٰذِهِ ٱلدُّنْيَا لَعْنَةًۭ وَيَوْمَ ٱلْقِيَـٰمَةِ ۗ أَلَآ إِنَّ عَادًۭا كَفَرُوا۟ رَبَّهُمْ ۗ أَلَا بُعْدًۭا لِّعَادٍۢ قَوْمِ هُودٍۢ ٦٠
وَأُتۡبِعُواْ
فِي
هَٰذِهِ
ٱلدُّنۡيَا
لَعۡنَةٗ
وَيَوۡمَ
ٱلۡقِيَٰمَةِۗ
أَلَآ
إِنَّ
عَادٗا
كَفَرُواْ
رَبَّهُمۡۗ
أَلَا
بُعۡدٗا
لِّعَادٖ
قَوۡمِ
هُودٖ
٦٠
Dan mereka ditimpa laknat (yang tidak putus-putus) dalam dunia ini dan pada hari kiamat. Ketahuilah Sesungguhnya kaum Aad itu telah kufur ingkar kepada Tuhan mereka ketahuilah! Sesungguhnya kebinasaanlah akhirnya bagi Aad: kaum Nabi Hud.
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Renungan
Jawapan
Qiraat
Hadis
Anda sedang membaca tafsir untuk kumpulan ayat dari 11:57 hingga 11:60
ہود علیہ السلام کا قوم کو جواب ٭٭

حضرت ہود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ ”اپنا کام تو میں پورا کر چکا، اللہ کی رسالت تمہیں پہنچا چکا، اب اگر تم منہ موڑ لو اور نہ مانو تو تمہارا وبال تم پر ہی ہے نہ کہ مجھ پر۔ اللہ کو قدرت ہے کہ وہ تمہاری جگہ انہیں دے جو اس کی توحید کو مانیں اور صرف اسی کی عبادت کریں۔ اسے تمہاری کوئی پرواہ نہیں، تمہارا کفر اسے کوئی نقصان نہیں دینے کا بلکہ اس کا وبال تم پر ہی ہے۔ میرا رب بندوں پر شاہد ہے۔ ان کے اقوال افعال اس کی نگاہ میں ہیں۔‏“

آخر ان پر اللہ تعالیٰ کا عذاب آ گیا۔ خیر و برکت سے خالی، عذاب و سزا سے بھری ہوئی آندھیاں چلنے لگیں۔ اس وقت ہود علیہ السلام اور آپ علیہ السلام کی جماعت مسلمین اللہ کے فضل و کرم اور اس کے لطف و رحم سے نجات پاگئے۔ سزاؤں سے بچ گئے، سخت عذاب ان پر سے ہٹا لیے گئے۔ یہ تھے عادی جنہوں نے اللہ کے ساتھ کفر کیا، اللہ کے پیغمبروں کی مان کر نہ دی۔ یہ یاد رہے کہ ایک نبی علیہ السلام کا نافرمان کل نبیوں علیہم السلام کا نافرمان ہے۔ یہ انہیں کی مانتے رہے جو ان میں ضدی اور سرکش تھے۔ اللہ کی اور اس کے مومن بندوں کی لعنت ان پر برس پڑی۔ اس دنیا میں بھی ان کا ذکر لعنت سے ہونے لگا اور قیامت کے دن بھی میدان محشر میں سب کے سامنے ان پر اللہ کی لعنت ہو گی۔ اور پکار دیا جائے گا کہ عادی اللہ کے منکر ہیں۔ سدی رحمہ اللہ کا قول ہے کہ ”ان کے بعد جتنے نبی علیہم السلام سب ان پر لعنت ہی کرتے آئے ان کی زبانی اللہ کی لعنتیں بھی ان پر ہوتی رہیں۔‏“

صفحہ نمبر3867