Log masuk
Log masuk
Log masuk
Pilih Bahasa
11:120
وكلا نقص عليك من انباء الرسل ما نثبت به فوادك وجاءك في هاذه الحق وموعظة وذكرى للمومنين ١٢٠
وَكُلًّۭا نَّقُصُّ عَلَيْكَ مِنْ أَنۢبَآءِ ٱلرُّسُلِ مَا نُثَبِّتُ بِهِۦ فُؤَادَكَ ۚ وَجَآءَكَ فِى هَـٰذِهِ ٱلْحَقُّ وَمَوْعِظَةٌۭ وَذِكْرَىٰ لِلْمُؤْمِنِينَ ١٢٠
وَكُلّٗا
نَّقُصُّ
عَلَيۡكَ
مِنۡ
أَنۢبَآءِ
ٱلرُّسُلِ
مَا
نُثَبِّتُ
بِهِۦ
فُؤَادَكَۚ
وَجَآءَكَ
فِي
هَٰذِهِ
ٱلۡحَقُّ
وَمَوۡعِظَةٞ
وَذِكۡرَىٰ
لِلۡمُؤۡمِنِينَ
١٢٠
Dan tiap-tiap berita dari berita Rasul-rasul itu, kami ceritakan kepadamu (wahai Muhammad), untuk menguatkan hatimu dengannya. Dan telah datang kepadamu dalam berita ini kebenaran dan pengajaran serta peringatan bagi orang-orang yang beriman.
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Renungan
Jawapan
Qiraat
Hadis
Anda sedang membaca tafsir untuk kumpulan ayat dari 11:120 hingga 11:123

قرآن میں رسولوں کے احوال اس لیے سنائے گئے ہیں کہ بعد کے داعیوں کو اس سے سبق حاصل ہو۔ رسولوں کے احوال میں داعی دیکھتاہے کہ ان کی مخاطب قوموںنے ان سے جھگڑے كيے۔ سیدھی بات کو غلط رخ دے کر انھیں مطعون کیا۔ ان کو طرح طرح کی تکلیفیں پہنچائیں۔ ان کو اس طرح رد کردیا جیسے ان کی کوئی قیمت ہی نہیں۔

مگر بالآخر اللہ نے ان کی مدد کی۔ ان کی بات سب سے برتر ثابت ہوئی۔ مخالفین کی تمام کارروائیاں ناکام ہوکر رہ گئیں۔ دونوں گروہوں کا یہ مختلف انجام اپنی ابتدائی صورت میں موجودہ دنیا ہی میں پیش آیا اور آخرت میں وہ اپنی کامل ترین صورت میں پیش آئے گا۔

ان مثالوں سے داعی کو یہ تاریخی اعتماد حاصل ہوتا ہے کہ اس کو دعوتِ حق کی راہ میں جو مشکلیں پیش آرہی ہیں ان میں اس کے لیے نہ مایوسی کا سوال ہے اور نہ گھبراہٹ کا۔ دعوت حق کی راہ میں یہ چیزیں ہمیشہ پیش آتی ہیں۔ اور اس کو بھی بالآخر اس طرح کامیابی حاصل ہوگی جس طرح اس سے پہلے خداکے سچے داعیوں کو حاصل ہوئی۔