Log masuk
Log masuk
Log masuk
Pilih Bahasa

Tafsir: Ghaafir (Al-Mu'min) 40:67

40:67
هو الذي خلقكم من تراب ثم من نطفة ثم من علقة ثم يخرجكم طفلا ثم لتبلغوا اشدكم ثم لتكونوا شيوخا ومنكم من يتوفى من قبل ولتبلغوا اجلا مسمى ولعلكم تعقلون ٦٧
هُوَ ٱلَّذِى خَلَقَكُم مِّن تُرَابٍۢ ثُمَّ مِن نُّطْفَةٍۢ ثُمَّ مِنْ عَلَقَةٍۢ ثُمَّ يُخْرِجُكُمْ طِفْلًۭا ثُمَّ لِتَبْلُغُوٓا۟ أَشُدَّكُمْ ثُمَّ لِتَكُونُوا۟ شُيُوخًۭا ۚ وَمِنكُم مَّن يُتَوَفَّىٰ مِن قَبْلُ ۖ وَلِتَبْلُغُوٓا۟ أَجَلًۭا مُّسَمًّۭى وَلَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ ٦٧
هُوَ
ٱلَّذِي
خَلَقَكُم
مِّن
تُرَابٖ
ثُمَّ
مِن
نُّطۡفَةٖ
ثُمَّ
مِنۡ
عَلَقَةٖ
ثُمَّ
يُخۡرِجُكُمۡ
طِفۡلٗا
ثُمَّ
لِتَبۡلُغُوٓاْ
أَشُدَّكُمۡ
ثُمَّ
لِتَكُونُواْ
شُيُوخٗاۚ
وَمِنكُم
مَّن
يُتَوَفَّىٰ
مِن
قَبۡلُۖ
وَلِتَبۡلُغُوٓاْ
أَجَلٗا
مُّسَمّٗى
وَلَعَلَّكُمۡ
تَعۡقِلُونَ
٦٧
Dia lah yang menciptakan kamu dari tanah, kemudian dari (setitis) air benih, kemudian dari sebuku darah beku, kemudian dari seketul daging; kemudian Ia mengeluarkan kamu berupa kanak-kanak; kemudian kamu (dipelihara) hingga sampai ke peringkat umur dewasa; kemudian kamu (dipanjangkan umur) hingga sampai menjadi tua. Dan (dalam pada itu) ada di antara kamu yang dimatikan sebelum itu. (Allah melakukan kejadian yang demikian) supaya kamu sampai ke masa yang ditentukan (untuk menerima balasan); dan supaya kamu memahami (hikmat-hikmat kejadian itu dan kekuasaan Tuhan).
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Renungan
Jawapan
Qiraat
Hadis
Anda sedang membaca tafsir untuk kumpulan ayat dari 40:66 hingga 40:68
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مشرکین کو دعوت توحید ٭٭

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تم ان مشرکوں سے کہہ دو کہ اللہ تعالیٰ اپنے سوا ہر کسی کی عبادت سے اپنی مخلوق کو منع فرما چکا ہے۔ اس کے سوا اور کوئی مستحق عبادت نہیں۔ اس کی بہت بڑی دلیل اس کے بعد کی آیت ہے، جس میں فرمایا کہ اسی «وَحْدَہٗ لاَ شَرِیْك لَہٗ» نے تمہیں مٹی سے پھر نطفے سے پھر خون کی پھٹکی سے پیدا کیا۔ اسی نے تمہیں ماں کے پیٹ سے بچے کی صورت میں نکالا۔ ان تمام حالات کو وہی بدلتا رہا پھر اسی نے بچپن سے جوانی تک تمہیں پہنچایا۔ وہی جوانی کے بعد بڑھاپے تک لے جائے گا یہ سب کام اسی ایک کے حکم تقدیر اور تدبیر سے ہوتے ہیں۔ پھر کس قدر نامرادی ہے کہ اس کے ساتھ دوسرے کی عبادت کی جائے؟

بعض اس سے پہلے ہی فوت ہو جاتے ہیں۔ یعنی کچے پنے میں ہی گر جاتے ہیں۔ حمل ساقط ہو جاتا ہے۔ بعض بچین میں بعض جوانی میں بعض ادھیڑ عمر میں بڑھاپے سے پہلے ہی مر جاتے ہیں۔ چنانچہ اور جگہ قرآن پاک میں ہے «وَنُقِرُّ فِي الْاَرْحَامِ مَا نَشَاۗءُ اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّى» [ 22- الحج: 5 ] ‏ یعنی ہم ماں کے پیٹ میں ٹھہراتے ہیں جب تک چاہیں۔ یہاں فرمان ہے کہ تاکہ تم وقت مقررہ تک پہنچ جاؤ۔ اور تم سوچو سمجھو۔ یعنی اپنی حالتوں کے اس انقلاب سے تم ایمان لے آؤ کہ اس دنیا کے بعد بھی تمہیں نئی زندگی میں ایک روز کھڑا ہونا ہے، وہی زندگی دینے والا اور مارنے والا ہے۔ اس کے سوا کوئی موت زیست پر قادر نہیں۔ اس کے کسی حکم کو کسی فیصلے کو کسی تقرر کو کسی ارادے کو کوئی توڑنے والا نہیں، جو وہ چاہتا ہے ہو کر ہی رہتا ہے اور جو وہ نہ چاہے ناممکن ہے کہ وہ ہو جائے۔

صفحہ نمبر8008