Log masuk
Log masuk
Log masuk
Pilih Bahasa

Tafsir: Faatir 35:1

35:1
الحمد لله فاطر السماوات والارض جاعل الملايكة رسلا اولي اجنحة مثنى وثلاث ورباع يزيد في الخلق ما يشاء ان الله على كل شيء قدير ١
ٱلْحَمْدُ لِلَّهِ فَاطِرِ ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ جَاعِلِ ٱلْمَلَـٰٓئِكَةِ رُسُلًا أُو۟لِىٓ أَجْنِحَةٍۢ مَّثْنَىٰ وَثُلَـٰثَ وَرُبَـٰعَ ۚ يَزِيدُ فِى ٱلْخَلْقِ مَا يَشَآءُ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍۢ قَدِيرٌۭ ١
ٱلۡحَمۡدُ
لِلَّهِ
فَاطِرِ
ٱلسَّمَٰوَٰتِ
وَٱلۡأَرۡضِ
جَاعِلِ
ٱلۡمَلَٰٓئِكَةِ
رُسُلًا
أُوْلِيٓ
أَجۡنِحَةٖ
مَّثۡنَىٰ
وَثُلَٰثَ
وَرُبَٰعَۚ
يَزِيدُ
فِي
ٱلۡخَلۡقِ
مَا
يَشَآءُۚ
إِنَّ
ٱللَّهَ
عَلَىٰ
كُلِّ
شَيۡءٖ
قَدِيرٞ
١
Segala puji tertentu bagi Allah yang menciptakan langit dan bumi, yang menjadikan malaikat utusan-utusan yang bersayap: dua, tiga dan empat; Ia menambah pada bentuk kejadian makhluk yang diciptakanNya apa jua yang dikehendakiNya. Sesungguhnya Allah Maha Kuasa atas tiap-tiap sesuatu.
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Renungan
Jawapan
Qiraat
Hadis
فاطر کے معنی ٭٭

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں «فاطر» کی بالکل ٹھیک معنی میں نے سب سے پہلے ایک اعرابی کی زبان سے سن کر معلوم کئے۔ وہ اپنے ایک ساتھی اعرابی سے جھگڑتا ہوا آیا ایک کنویں کے بارے میں ان کا اختلاف تھا تو اعرابی نے کہا انا فطرتھا یعنی پہلے پہل میں نے ہی اسے بنایا ہے پس معنی یہ ہوئے کہ ابتداء ابے نمونہ صرف اپنی قدرت کاملہ سے اللہ تبارک و تعالیٰ نے زمین و آسمان کو پیدا کیا۔ ضحاک رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ فاطر کے معنی خالق کے ہیں۔ اپنے اور اپنے نبیوں کے درمیان قاصد اس نے اپنے فرشتوں کو بنایا ہے۔ جو پر والے ہیں اڑتے ہیں تاکہ جلدی سے اللہ کا پیغام اس کے رسولوں تک پہنچا دیں۔ ان میں سے بعض دو پروں والے ہیں بعض کے تین تین ہیں بعض کے چار چار پر ہیں۔ بعض ان سے بھی زیادہ ہیں۔ چنانچہ حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل علیہ السلام کو دیکھا ان کے چھ سو پر تھے اور ہر دو پر کے درمیان مشرق و مغرب جتنا فاصلہ تھا۔ [صحیح بخاری:3232] ‏ یہاں بھی فرماتا ہے رب جو چاہے اپنی مخلوق میں زیادتی کرے۔ جس سے چاہتا ہے اس سے بھی زیادہ پر کر دیتا ہے اور کائنات میں جو چاہے رچاتا ہے۔ اس سے مراد اچھی آواز بھی لی گئی۔ چنانچہ ایک شاذ قرأت فی الحلق ”ح“ کے ساتھ بھی ہے۔ «واللہ اعلم»

صفحہ نمبر7239