Log masuk
Log masuk
Log masuk
Pilih Bahasa

Tafsir: Az-Zumar 39:15

39:15
فاعبدوا ما شيتم من دونه قل ان الخاسرين الذين خسروا انفسهم واهليهم يوم القيامة الا ذالك هو الخسران المبين ١٥
فَٱعْبُدُوا۟ مَا شِئْتُم مِّن دُونِهِۦ ۗ قُلْ إِنَّ ٱلْخَـٰسِرِينَ ٱلَّذِينَ خَسِرُوٓا۟ أَنفُسَهُمْ وَأَهْلِيهِمْ يَوْمَ ٱلْقِيَـٰمَةِ ۗ أَلَا ذَٰلِكَ هُوَ ٱلْخُسْرَانُ ٱلْمُبِينُ ١٥
فَٱعۡبُدُواْ
مَا
شِئۡتُم
مِّن
دُونِهِۦۗ
قُلۡ
إِنَّ
ٱلۡخَٰسِرِينَ
ٱلَّذِينَ
خَسِرُوٓاْ
أَنفُسَهُمۡ
وَأَهۡلِيهِمۡ
يَوۡمَ
ٱلۡقِيَٰمَةِۗ
أَلَا
ذَٰلِكَ
هُوَ
ٱلۡخُسۡرَانُ
ٱلۡمُبِينُ
١٥
"(Setelah kamu mengetahui pendirianku ini wahai kaum musyrik, dan kamu masih juga berdegil) maka sembahlah kamu apa yang kamu kehendaki, yang lain dari Allah, (kamu akan mengetahui akibatnya)". Katakanlah lagi: "Sesungguhnya orang-orang yang rugi (dengan sebenar-benarnya) ialah orang-orang yang merugikan dirinya sendiri dan pengikut-pengikutnya pada hari kiamat (dengan sebab perbuatan mereka memilih kekufuran atau kederhakaan). Ingatlah, yang demikian itulah kerugian yang jelas nyata."
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Renungan
Jawapan
Qiraat
Hadis
Anda sedang membaca tafsir untuk kumpulan ayat dari 39:13 hingga 39:16
نافرمانوں کے لئے قیامت کے دن کا عذاب ٭٭

حکم ہوتا ہے کہ ” لوگوں میں اعلان کر دو کہ باوجودیکہ میں اللہ کا رسول ہوں، لیکن عذاب الٰہی سے بے خوف نہیں ہوں۔ اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں تو قیامت کے دن کے عذاب سے میں بھی بچ نہیں سکتا تو دوسرے لوگوں کو تو رب کی نافرمانی سے بہت زیادہ اجتناب کرنا چاہیئے۔ تم اپنے دین کا بھی اعلان کر دو کہ میں پختہ اور یکسوئی والا موحد ہوں۔ تم جس کی چاہو عبادت کرتے رہو “۔

اس میں بھی ڈانٹ ڈپٹ ہے نہ کہ اجازت۔ پورے نقصان میں وہ ہیں جنہوں نے خود اپنے آپ کو اور اپنے والوں کو نقصان میں پھنسا دیا۔ قیامت کے دن ان میں جدائی ہو جائے گی۔ اگر ان کے اہل جنت میں گئے تو یہ دوزخ میں جل رہے ہیں اور ان سے الگ ہیں اور اگر سب جہنم میں گئے تو وہاں برائی کے ساتھ ایک دوسرے سے دور رہیں اور محزون و مغموم ہیں۔ یہی واضح نقصان ہے۔ پھر ان کا حال جو جہنم میں ہو گا اس کا بیان ہو رہا ہے کہ اوپر تلے آگ ہی آگ ہو گی۔ جیسے فرمایا «لَهُمْ مِّنْ جَهَنَّمَ مِهَادٌ وَّمِنْ فَوْقِهِمْ غَوَاشٍ وَكَذٰلِكَ نَجْزِي الظّٰلِمِيْنَ» [7-الأعراف:41] ‏۔ یعنی ” ان کا اوڑھنا بچھونا سب آتش جہنم سے ہو گا۔ ظالموں کا یہی بدلہ ہے “۔

اور آیت میں ہے «‏يَوْمَ يَغْشَاهُمُ الْعَذَابُ مِن فَوْقِهِمْ وَمِن تَحْتِ أَرْجُلِهِمْ وَيَقُولُ ذُوقُوا مَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ» ‏ [29-العنكبوت:55] ‏ ” قیامت والے دن انہیں نیچے اوپر سے عذاب ہو رہا ہو گا۔ اور اوپر سے کہا جائے گا کہ اپنے اعمال کا مزہ چکھو “۔ یہ اس لیے ظاہر و باہر کر دیا گیا اور کھول کھول کر اس وجہ سے بیان کیا گیا کہ اس حقیقی عذاب سے جو یقیناً آنے والا ہے میرے بندے خبردار ہو جائیں اور گناہوں اور نافرمانیوں کو چھوڑ دیں۔ میرے بندو میری پکڑ دھکڑ سے میرے عذاب و غضب سے میرے انتقام اور بدلے سے ڈرتے رہو۔

صفحہ نمبر7796