Log masuk
Log masuk
Log masuk
Pilih Bahasa

Tazkir ul Quran Tafsir: At-Tuur Ayah 16

52:16
اصلوها فاصبروا او لا تصبروا سواء عليكم انما تجزون ما كنتم تعملون ١٦
ٱصْلَوْهَا فَٱصْبِرُوٓا۟ أَوْ لَا تَصْبِرُوا۟ سَوَآءٌ عَلَيْكُمْ ۖ إِنَّمَا تُجْزَوْنَ مَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ ١٦
ٱصۡلَوۡهَاﱈ
فَٱصۡبِرُوٓاْﱉ
أَوۡﱊ
لَاﱋ
تَصۡبِرُواْﱌ
سَوَآءٌﱍ
عَلَيۡكُمۡۖﱎﱏ
إِنَّمَاﱐ
تُجۡزَوۡنَﱑ
مَاﱒ
كُنتُمۡﱓ
تَعۡمَلُونَﱔ
١٦ﱕ
"Rasalah bakarannya; kemudian sama ada kamu bersabar (menderita azabnya) atau tidak bersabar, sama sahaja (tidak ada faedahnya) kepada kamu, kerana kamu tidak dibalas melainkan dengan apa yang kamu telah kerjakan".
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Renungan
Jawapan
Qiraat
Hadis
Anda sedang membaca tafsir untuk kumpulan ayat dari 52:1 hingga 52:16

طور صحرائے سینا کا وہ پہاڑ ہے جہاں حضرت موسیٰ کو پیغمبری دی گئی۔ کتاب مسطور سے مراد تورات ہے۔ بیت معمور سے مراد زمین اور سقف مرفوع سے مراد آسمان ہے۔ بحر مسجور سے مراد موجیں مارتا ہوا سمندر ہے۔ یہ چیزیں شاہد ہیں کہ خدا کی پکڑ کا دن یقیناً آنے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ یہی خبر پیغمبروں کے ذریعہ دیتا رہا ہے۔ قدیم آسمانی کتابوں میں یہی بات درج ہے۔ زمین و آسمان اپنی خاموش زبان میں اس کا اعلان کر رہے ہیں۔ سمندر کی موجیں ہر سننے والے کو اس کی کہانی سنا رہی ہیں۔

انسان کو اپنے عمل کا نتیجہ بھگتنا ہوگا۔ یہ بات آج پیشگی اطلاع کی صورت میں بتائی جا رہی ہے۔ جو لوگ پیشگی اطلاع سے ہوش میں نہ آئیں ان پر ان کی غفلت اور سرکشی کل کے دن ایک دردناک عذاب کی صورت میں آ پڑے گی اور پھر وہ اس سے بھاگنا چاہیں گے مگر وہ اس سے بھاگ کر کہیں نہ جا سکیں گے۔